ایل پی جی کھلے بازار میں سرکاری قیمت سے دوگنی ہوگئی

0

پاکستان میں کھلے بازار میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت سرکاری نرخ سے دوگنی تک پہنچ گئی ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نومبر کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 294 روپے فی کلو مقرر کی ہے، مگر کھلے بازار میں یہ 630 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے، جبکہ کمپنیوں کی فرنچائزز 400 روپے فی کلو تک وصول کر رہی ہیں۔

اوگرا نے ہفتے کو جاری نوٹیفکیشن میں نومبر کے لیے ایل پی جی کی قیمت 279,341 روپے فی ٹن سے بڑھا کر 294,075 روپے فی ٹن کر دی۔ اس اضافے کے بعد 11.8 کلو گرام والے گھریلو سلنڈر کی سرکاری قیمت 173 روپے بڑھ کر 3,470 روپے ہو گئی ہے۔ فی کلو قیمت میں 14.73 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

قیمت کیوں بڑھی، اور قلت کی وجہ کیا ہے

اوگرا کے مطابق ایل پی جی کی پیداواری قیمت سعودی آرامکو کنٹریکٹ پرائس اور ڈالر کے تبادلہ نرخ سے منسلک ہے۔ سعودی آرامکو کنٹریکٹ پرائس میں 6.47 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ڈالر کا اوسط نرخ 0.12 فیصد کم ہوا، جس کے نتیجے میں صارفین کے لیے قیمت میں 14.73 روپے فی کلو کا اضافہ ہوا۔

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین عرفان کھوکھر کے مطابق صورتحال اس لیے سنگین ہے کیونکہ ایران کی سرحد بند ہونے سے سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ امریکا ایران جنگ کے باعث ایل پی جی کی قلت پیدا ہوئی ہے، اور اسی قلت کے دوران بازار میں قیمتیں سرکاری نرخ سے کہیں آگے نکل گئی ہیں۔

کراچی میں بھی صورتحال اسی طرح کی ہے، جہاں رپورٹوں کے مطابق ایل پی جی کی قیمت 550 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جو سرکاری نرخ سے تقریباً دوگنی ہے۔ خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں سے تو 750 روپے فی کلو تک کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم یہ مقامی بازار کی رپورٹیں ہیں، سرکاری نرخ نہیں۔

16 نومبر سے ہڑتال کی دھمکی

ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین علی حیدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے نئی ایل پی جی پالیسی نافذ کی تو 16 نومبر سے ملک گیر ہڑتال کی جائے گی۔ ان کے مطابق نئی قیمتوں کا فارمولا قیمتوں میں 25 سے 30 فیصد اضافہ کر سکتا ہے، اور ایسوسی ایشنز کو پالیسی سازی میں نظرانداز کیا گیا ہے۔

یہ اضافہ سردیوں کے آغاز سے عین پہلے ہوا ہے، جب ایل پی جی کی طلب عام طور پر بڑھ جاتی ہے۔ وہ گھرانے جو پائپ لائن گیس سے محروم ہیں، کھانا پکانے اور ہیٹنگ کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے بازار اور سرکاری نرخ کے درمیان اتنا بڑا فرق ان کے ماہانہ بجٹ پر براہ راست اثر ڈال رہا ہے۔

نومبر کی نئی قیمتوں کے اعلان کی تفصیل ہماری اس خبر میں پڑھی جا سکتی ہے: ایل پی جی مہنگی: سلنڈر 3,470 روپے، نومبر سے نئی قیمت (https://niazitvnews.com/?p=2995)۔ اس سے پہلے قومی اسمبلی میں ایل پی جی کی قیمتوں پر بحث اور ایران بارڈر کے حوالے سے وزیر کے بیان کی تفصیل یہاں موجود ہے: ایل پی جی مہنگی کیوں؟ وزیر نے ایران بارڈر کو ذمہ دار ٹھہرایا (https://niazitvnews.com/?p=2190)۔

صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ خریداری کے وقت اوگرا کا نوٹیفائیڈ نرخ ضرور چیک کریں اور زائد قیمت وصول کرنے کی شکایت متعلقہ حکام کو درج کرائیں۔

ماخذ: ڈان، یکم نومبر 2026؛ پاکستان کنیکٹ اور اے آر وائی نیوز کی اوگرا نوٹیفکیشن کی کوریج۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *