ٹرائی سیریز فائنل: فخر کی سنچری، پاکستان چیمپئن
پاکستان نے ہفتے 31 اکتوبر کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ون ڈے ٹرائی سیریز کے فائنل میں سری لنکا کو 3 وکٹوں سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ میزبان ٹیم نے 326 رنز کا مشکل ہدف 48.3 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 331 رنز بنا کر پورا کیا اور نو گیندیں باقی رہتے ہوئے فتح حاصل کی۔ فخر زمان نے 99 گیندوں پر 127 رنز کی میچ وننگ اننگز کھیلی، جس میں 11 چوکے اور 6 چھکے شامل تھے۔
فخر اور سعد کی شراکت نے میچ پلٹ دیا
پاکستان کی اننگز کا آغاز انتہائی خراب رہا۔ اوپنر معاذ صداقت 5 اور بابر اعظم صفر پر آؤٹ ہو گئے اور صرف 14 رنز پر دو وکٹیں گر چکی تھیں۔ اس مشکل صورت حال میں فخر زمان اور سعد بیگ نے ذمہ داری سنبھالی اور تیسری وکٹ کے لیے 149 رنز کی شراکت قائم کی۔ سعد بیگ نے اپنے کیریئر کی پہلی نصف سنچری بناتے ہوئے 75 گیندوں پر 74 رنز اسکور کیے، جن میں 11 چوکے شامل تھے۔
فخر زمان نے 84 گیندوں پر اپنی سنچری مکمل کی۔ یہ ان کے کیریئر کی 12ویں ون ڈے سنچری تھی اور اسی دوران جب وہ 108 رنز پر پہنچے تو ون ڈے کرکٹ میں 4 ہزار رنز بھی مکمل کر لیے۔ فخر کے آؤٹ ہونے کے بعد سلمان علی آغا 17 رنز بنا کر پویلین لوٹے تو سری لنکا کی واپسی کی امید جاگی، لیکن عرفات منہاس اور حسن نواز نے چھٹی وکٹ کے لیے 94 رنز کی شراکت سے میچ پاکستان کے حق میں کر دیا۔ عرفات منہاس نے صرف 31 گیندوں پر 61 رنز کی برق رفتار اننگز کھیلی، جس میں 4 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے۔ حسن نواز 45 گیندوں پر 37 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے اور کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 6 رنز ناٹ آؤٹ کے ساتھ چھکا لگا کر فتح پر مہر ثبت کی۔ سری لنکا کی جانب سے دلشان مدوشنکا نے 9.3 اوورز میں 63 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔
سری لنکا کی اننگز: کامندو کی پہلی سنچری
اس سے پہلے پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ سری لنکا نے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں پر 325 رنز بنائے۔ کامندو مینڈس نے اپنے کیریئر کی پہلی ون ڈے سنچری بناتے ہوئے 128 گیندوں پر 131 رنز اسکور کیے، جن میں 12 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ پون رتنائیکے نے 65 گیندوں پر 77 رنز بنائے اور دونوں نے تیسری وکٹ کے لیے 146 رنز کی شراکت قائم کی۔ اویشکا فرنینڈو نے 38 رنز بنائے۔ پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف، نسیم شاہ اور سلمان علی آغا نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ آخری پانچ اوورز میں پاکستان نے صرف 38 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں اور سری لنکا کو بڑے مجموعے سے روک دیا۔
ریکارڈ برابر اور ٹائٹل کی اہمیت
326 رنز کا کامیاب تعاقب ون ڈے ٹورنامنٹ کے فائنل میں مشترکہ سب سے بڑا کامیاب ہدف ہے، جو اس سے پہلے 2002 میں لارڈز میں بھارت نے انگلینڈ کے خلاف حاصل کیا تھا۔ پاکستان کا یہ 2008 کے کٹ پلے کپ کے بعد پہلا ون ڈے ٹرائی سیریز ٹائٹل ہے۔ اس سے پہلے پاکستان 1994، 2004 اور 2025 کے ٹرائی سیریز فائنلز میں ناکام رہا تھا۔ عرفات منہاس کو ٹورنامنٹ میں 9 وکٹیں اور 149 رنز کی آل راؤنڈ کارکردگی پر سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
مزید پڑھیں: فائنل سے پہلے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان میچ کی مکمل گائیڈ کے لیے ہماری یہ خبر پڑھیں اور ٹرائی سیریز کے فائنل تک پہنچنے کے منظرنامے کے لیے یہ خبر
ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون، خلیج ٹائمز، اردو پوائنٹ، این ڈی ٹی وی اسپورٹس، دی نیشنل — یکم نومبر 2026