روبیو: امریکا پاکستان افغانستان کشیدگی میں کردار ادا کر سکتا ہے

0

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا نے پاکستان کے تحفظات سن لیے ہیں اور اگر افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے معاملے میں کوئی مثبت کردار ادا کر سکا تو وہ ضرور ادا کرے گا۔ روبیو نے یہ بات اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں کہی۔

روبیو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور پاکستان کی وزارت اطلاعات نے ہفتے کے روز واضح کیا تھا کہ دہشت گردی پاکستان کے لیے سرخ لکیر ہے۔

روبیو نے اٹلانٹا میں کیا کہا

اٹلانٹا میں پریس بریفنگ کے دوران روبیو نے کہا کہ پاکستان کو تشویش ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد حملوں کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔ ان کے الفاظ میں، پاکستان کا احساس ہے کہ طالبان نے ان حملوں کو روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے اور پاکستان نے اس کے جواب میں کارروائی بھی کی ہے۔

روبیو نے کہا، “ہم نے ظاہر ہے کہ ان کے تحفظات سن لیے ہیں۔ ہم ظاہر ہے کہ نہیں چاہتے کہ انہیں دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے۔ لہٰذا اگر ہمارے لیے کوئی مثبت کردار ادا کرنا ممکن ہوا تو ہم وہ کردار ادا کریں گے۔”

امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکا کے طالبان حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات نہیں ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا، “ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں، چاہے وہ کہیں سے بھی آئے اور کسی کو بھی نشانہ بنائے۔”

پاکستان کا موقف اور ہلاکتوں کے اعداد

پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صرف 2026 کے دوران افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی میں 1,327 پاکستانی جاں بحق اور 2,484 زخمی ہوئے۔ یہ اعداد پاکستانی حکام کے دعوے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

پاکستان کی وزارت اطلاعات نے ہفتے کے روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے سے انکار معمول کے تعلقات کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان اپنی سلامتی کو یرغمال نہیں بننے دے گا اور خطرات کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3071
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3073

طالبان کا جواب

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے روبیو کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ امریکی حکام کو فراہم کی گئی معلومات یک طرفہ ہیں اور صرف پاکستان کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔ مجاہد نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے ثالث ممالک کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔

پاکستان کا الزام ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سمیت عسکریت پسند گروہ افغان سرزمین سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جبکہ کابل اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے۔

روس کی ثالثی کی پیشکش

اسی دوران روس نے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش دہرائی ہے۔ تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات غیر مشروط نہیں ہو سکتے اور اس وقت کوئی باقاعدہ الگ روسی پیش رفت زیر غور نہیں ہے۔

اس بیان کی اہمیت اور اس کی حدود

روبیو کے بیان کو احتیاط سے پڑھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کسی مخصوص کردار، ملاقات، ایلچی یا ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا۔ ان کا جملہ “اگر کوئی مثبت کردار ہوا تو” مشروط ہے، یعنی امریکا نے ابھی کسی عملی قدم کا وعدہ نہیں کیا ہے۔

اس کے باوجود یہ بیان اس لیے اہم ہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ امریکا کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے کھلے عام پاکستان کے اس موقف کی تائید کی ہے کہ افغانستان سے حملے ہو رہے ہیں اور طالبان نے انہیں روکنے کے لیے کافی نہیں کیا۔ آئندہ دنوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ آیا یہ بیان کسی عملی سفارتی قدم میں بدلتا ہے یا صرف ایک بیان ہی رہتا ہے۔

ذرائع: ٹریبیون، عرب نیوز، ڈان، اے پی پی، خامہ پریس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *