ڈاکار 2026: افریقہ میں پہلی بار یوتھ اولمپکس کا آغاز

0

سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار میں 2026 یوتھ اولمپک گیمز کا باضابطہ آغاز 31 اکتوبر کو ہو گیا ہے، جو افریقہ کی سرزمین پر منعقد ہونے والا تاریخ کا پہلا اولمپک ایونٹ ہے۔ یہ کھیل 13 نومبر تک جاری رہیں گے اور ان میں 204 قومی اولمپک کمیٹیوں سے تعلق رکھنے والے تقریبا 2,650 نوجوان کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں، جن کی عمریں 14 سے 17 سال کے درمیان ہیں۔ ان کے ساتھ یوتھ ریفیوجی اولمپک ٹیم بھی شریک ہے، جو دنیا بھر کے بے گھر نوجوانوں کی نمائندگی کرتی ہے۔

افتتاحی تقریب کیسی تھی

افتتاحی تقریب ڈاکار کے مضافاتی علاقے ڈیامنیاڈیو میں واقع عبداللہ واڈے اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی، جہاں سینیگال کے صدر باسیرو ڈیومائے فائے نے چوتھے سمر یوتھ اولمپک گیمز کے آغاز کا اعلان کیا۔ تقریب کا موضوع سینیگال کی روایت ترانگا، یعنی مہمان نوازی، تھا اور اس میں افریقہ کے ماضی، حال اور مستقبل کے سفر کو تین علامتی کرداروں، الکیبولان، کیب اور سیتوئے، کے ذریعے پیش کیا گیا۔

تقریب میں 1,115 فنکاروں نے حصہ لیا، جن میں 628 رقاص شامل تھے، اور مقامی کاریگروں نے تقریبا 1,500 ملبوسات تیار کیے جن پر 5,000 گھنٹے سے زیادہ کام ہوا۔ سینیگال کے روایتی رقص، کشتی اور ڈھول کے ساتھ جدید موسیقی، ہپ ہاپ اور بصری فنون بھی پیش کیے گئے۔ سینیگالی فنکاروں بابا مال، کینے لام اور دارا جے فیملی کے ساتھ نائیجیریا اور گیمبیا کے فنکاروں نے بھی پرفارم کیا، جبکہ افریقہ کے 54 ممالک کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ سوشل میڈیا شخصیت خابی لیمے بھی ایک لائیو پینٹنگ کے حصے میں نظر آئے۔

کھیل کہاں اور کتنے ہوں گے

ڈاکار 2026 میں 25 مسابقتی کھیل اور 10 انگیجمنٹ کھیل شامل ہیں، جو تین مقامات، ڈاکار، ڈیامنیاڈیو اور ساحلی شہر سالی، میں منعقد ہوں گے۔ کھیلوں میں ایتھلیٹکس، بیچ ریسلنگ، رگبی سیونز اور بریکنگ جیسے کھیل شامل ہیں۔ تقریبا 136 سینیگالی کھلاڑی میزبان ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں اور تقریبا 6,000 رضاکار ان کھیلوں کے انعقاد میں مدد کر رہے ہیں۔ افتتاحی تقریب 30 سے زیادہ ممالک میں براہ راست نشر کی گئی اور افریقہ کے ہر ملک نے کھیل براہ راست دکھانے کا عزم کیا ہے۔

یہ کھیل اصل میں 2022 میں منعقد ہونے تھے، لیکن کووڈ 19 کی وبا کی وجہ سے انہیں چار سال کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ سینیگال نے ان کھیلوں کی میزبانی کے حقوق 2018 میں حاصل کیے تھے۔ سنگاپور 2010، نانجنگ 2014 اور بیونس آئرس 2018 کے بعد ڈاکار چوتھے سمر یوتھ اولمپک گیمز ہیں۔

تاریخی اہمیت کیا ہے

اولمپک تحریک کی 130 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اولمپک شعلہ افریقہ کی سرزمین پر روشن ہوا ہے۔ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی صدر کرسٹی کوونٹری نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ افریقہ کے لیے اس لمحے پر بے حد فخر محسوس کرتی ہیں اور یہ کہ پورا براعظم پہلی بار اولمپک تحریک کا خیرمقدم کر رہا ہے۔ کوونٹری خود زمبابوے سے تعلق رکھنے والی سابق اولمپک تیراک ہیں اور آئی او سی کی قیادت کرنے والی پہلی افریقی اور پہلی خاتون ہیں۔

سینیگال کے صدر نے کھیلوں سے پہلے ایک کھیل و ترقی سمٹ میں کہا تھا کہ آج صرف ایک قوم یوتھ اولمپک گیمز کا خیرمقدم نہیں کر رہی بلکہ پورا براعظم اپنی بانہیں کھول رہا ہے، اور یہ کھیل محض چیمپئنز کا جشن نہیں بلکہ کھیل کو معاشی و سماجی ترقی کا انجن بنانے کی اجتماعی صلاحیت کا جشن ہیں۔

روسی کھلاڑیوں کی واپسی

ڈاکار 2026 ایک اور اعتبار سے بھی قابل ذکر ہیں، کیونکہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی جانب سے روسی اولمپک کمیٹی کی معطلی جولائی میں عملا ختم ہونے کے بعد یہ پہلا اولمپک مقابلہ ہے جس میں روسی کھلاڑی اپنے پرچم اور رنگوں کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں۔ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے روسی کھلاڑی اولمپک مقابلوں میں اپنے قومی پرچم کے تحت حصہ نہیں لے سکے تھے۔

نوجوانوں کے لیے پیغام

یوتھ اولمپک گیمز کا مقصد صرف تمغے جیتنا نہیں بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کو اولمپک اقدار، تعلیم اور ثقافتی تبادلے کا تجربہ دینا ہے۔ ڈاکار میں کھیلوں کے ساتھ تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کا پروگرام بھی شامل ہے، جس کا مقصد افریقہ اور دنیا بھر کے نوجوانوں کو ایک دوسرے سے جوڑنا اور نئی نسل کو متاثر کرنا ہے۔ یہ پہلی یوتھ اولمپک گیمز بھی ہیں جن میں لڑکوں اور لڑکیوں کے مقابلوں میں مکمل صنفی برابری حاصل کی گئی ہے۔

کھیلوں کی دنیا میں پاکستان کی ایک اور تازہ کامیابی ہانگ کانگ سکسز میں پلیٹ ٹائٹل کی صورت میں سامنے آئی تھی، جس کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3106 ۔ اسی طرح بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان آخری ٹی ٹوئنٹی کا نتیجہ یہاں موجود ہے: https://niazitvnews.com/?p=3108 ۔ ڈاکار گیمز کے نتائج اور تمغوں کی صورت حال پر آئندہ دنوں میں مزید خبریں شائع کی جائیں گی۔

ذرائع: اولمپکس ڈاٹ کام (آئی او سی)، دی اسٹریٹس ٹائمز، سی جی ٹی این افریقہ، 31 اکتوبر تا یکم نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *