بنگلہ دیش: گارمنٹس مزدوروں کا احتجاج، ویج بورڈ
بنگلہ دیش کی حکومت نے گارمنٹس مزدوروں کے پرتشدد احتجاج کے بعد تنخواہوں پر نظرثانی کے لیے چھ رکنی ویج بورڈ قائم کر دیا ہے، لیکن مزدوروں نے کام پر واپسی سے انکار کرتے ہوئے اتوار یکم نومبر کو بھی ڈھاکہ اور غازی پور میں مظاہرے جاری رکھے۔ مزدور کم از کم ماہانہ تنخواہ 30 ہزار ٹکا (تقریباً 245 ڈالر) مانگ رہے ہیں جو موجودہ 12 ہزار 500 ٹکا سے دو گنا سے زیادہ ہے۔ احتجاج کے باعث 500 سے زائد فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں اور تقریباً 10 لاکھ مزدور کام سے محروم ہیں۔
ویج بورڈ کا اعلان اور مزدوروں کا مطالبہ
بنگلہ دیش کے وزیر محنت و روزگار عارف الحق چوہدری نے اعلان کیا کہ مزدوروں کے نمائندوں اور صنعت کے رہنماؤں سے مشاورت کے بعد چھ رکنی ویج بورڈ تشکیل دیا گیا ہے۔ بورڈ میں مزدوروں اور آجروں کے دو دو نمائندے، حکومت کا ایک نمائندہ اور ایک غیر جانبدار رکن شامل ہے، اور اس کی سربراہی سینئر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شیخ اشفاق الرحمان کر رہے ہیں۔ بورڈ کو بنگلہ دیش لیبر ایکٹ کے تحت ریڈی میڈ گارمنٹس سیکٹر کی کم از کم اجرتوں کا تعین کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ وزیر نے مزدوروں سے اپیل کی کہ وہ فیکٹریوں میں واپس آ جائیں کیونکہ ان کا ویج بورڈ کا مطالبہ پورا کر دیا گیا ہے۔
مزدوروں کا کہنا ہے کہ خوراک، رہائش، ٹرانسپورٹ اور صحت کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ان کی قوت خرید بری طرح متاثر کی ہے، اس لیے 12 ہزار 500 ٹکا ماہانہ تنخواہ اب گزارے کے لیے ناکافی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کم از کم اجرت 30 ہزار ٹکا مقرر کی جائے۔ گارمنٹس سیکٹر بنگلہ دیش کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور دنیا کے بڑے برانڈز کے لیے کپڑے تیار کرتا ہے، اس لیے اس شعبے میں خلل عالمی سپلائی چین پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
ڈھاکہ اور غازی پور میں جھڑپیں
ویج بورڈ کے اعلان کے باوجود اتوار کو ہزاروں مزدوروں نے ڈھاکہ اور غازی پور میں مظاہرے کیے، سڑکیں بلاک کیں اور اہم صنعتی علاقوں میں ٹرانسپورٹ معطل کر دی۔ ڈھاکہ میں کئی سو مزدوروں نے صبح 9 بجے سے میرپور 10 چوراہا بلاک کر دیا جس سے میرپور 11 سے آگرگاؤں اور میرپور 2 سے میرپور 13 کو ملانے والی سڑکوں پر ٹریفک متاثر ہوئی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ بعض مقامات پر مظاہرین نے پولیس پر اینٹیں برسائیں اور ایک پولیس گاڑی اور ایک پولیس چوکی کو آگ لگا دی۔
غازی پور میں بھی سینکڑوں مزدوروں نے ایک اہم شاہراہ بلاک کی جس سے ملک کی اہم صنعتی پٹی میں ٹرانسپورٹ متاثر ہوئی۔ غازی پور کے ڈپٹی کمشنر محمد نورالکریم بھویاں نے تصدیق کی کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) کے اہلکار دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعینات کر دیے گئے ہیں۔ بی جی بی کے ترجمان شریف الاسلام کے مطابق پانچ پلاٹون 7 نومبر تک پانچ ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی نگرانی میں تعینات رہیں گے۔ غازی پور میں کم از کم 45 فیکٹریوں نے عام تعطیل کا اعلان کر دیا۔
فیکٹریوں کی بندش کا پیمانہ
بنگلہ دیش گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق احتجاج کے باعث ملک کے اہم صنعتی مراکز میں 529 گارمنٹس فیکٹریاں بند ہوئیں اور 9 لاکھ 87 ہزار 190 مزدور کام سے محروم ہوئے۔ غازی پور انڈسٹریل پولیس کے سپرنٹنڈنٹ محمد امجد حسین کے مطابق صرف غازی پور میں 25 سے 30 فیکٹریوں کے مالکان نے کام بند کر دیا۔ احتجاج کا تازہ سلسلہ ہفتے کو آشولیا میں شروع ہوا تھا جہاں درجنوں فیکٹریوں نے مزدوروں کے مظاہروں کے بعد کام معطل کر دیا تھا۔ آشولیا ڈھاکہ کے نواح میں گارمنٹس سازی کا بڑا مرکز ہے۔
یہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بنگلہ دیش کی گارمنٹس صنعت پہلے ہی عالمی طلب میں اتار چڑھاؤ اور پیداواری لاگت میں اضافے کا سامنا کر رہی ہے۔ مزدوروں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ویج بورڈ کا قیام پہلا قدم ضرور ہے لیکن جب تک نئی اجرت کا اعلان نہیں ہوتا، احتجاج جاری رہے گا۔ دوسری طرف صنعت کاروں کو خدشہ ہے کہ طویل بندش سے برآمدی آرڈرز متاثر ہوں گے اور خریدار دوسرے ممالک کا رخ کر سکتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا
ویج بورڈ اب مزدوروں، آجروں اور حکومت کے موقف سن کر نئی کم از کم اجرت کی سفارش تیار کرے گا، لیکن اس عمل میں وقت لگ سکتا ہے اور اس دوران احتجاج کے جاری رہنے کا خطرہ موجود ہے۔ حکومت نے مزدوروں سے کام پر واپس آنے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ ویج بورڈ کی تشکیل مزدوروں کو مطمئن کر پاتی ہے یا ڈھاکہ اور غازی پور کی سڑکوں پر احتجاج مزید شدت اختیار کرتا ہے۔ پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال اہم ہے کیونکہ جنوبی ایشیا کی ٹیکسٹائل صنعت عالمی منڈی میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: جی سی سی تجارتی معاہدہ جلد، پاکستان سعودی بات چیت https://niazitvnews.com/?p=3111 اور پاکستان جرمنی تجارتی تعاون بڑھانے پر متفق https://niazitvnews.com/?p=2559
ماخذ: رائٹرز، چینل نیوز ایشیا اور آؤٹ لک انڈیا (یکم نومبر 2026) کی رپورٹس۔