سعودی عرب میں 3 ڈرون مار گرائے گئے

0

سعودی عرب کے فضائی دفاع نے ہفتے کو ریاض، مشرقی خطے اور جنوبی خطے میں تین ڈرون مار گرائے۔ سعودی قیادت والے اتحادی فوج کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق ریاض میں مار گرائے گئے ڈرون کا ملبہ گرا لیکن اس سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔ اتحادی فوج نے ان حملوں کو یمن کے حوثی گروپ کی جاری کارروائیوں کا حصہ قرار دیا ہے۔

ریاض میں ڈرون کیسے مار گرایا گیا

اتحادی فوج کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ فضائی دفاع نے ریاض کے علاقے میں ایک دشمن ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔ ان کے مطابق ملبہ گرنے سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ ریاض والا ڈرون کس نے روانہ کیا تھا، تاہم اتحادی فوج نے اس سے پہلے مشرقی خطے اور بعد میں جنوبی خطے کی طرف روانہ کیے گئے ڈرون بھی تباہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مشرقی اور جنوبی خطے میں بھی کارروائی

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی قیادت والے اتحاد نے ہفتے کی صبح بتایا کہ اس نے سعودی عرب کے تیل سے مالا مال مشرقی خطے کے اوپر ایک ڈرون روک کر تباہ کیا۔ بعد میں اتحادی فوج نے جنوبی خطے کی طرف روانہ کیے گئے ایک اور ڈرون کو بھی مار گرانے کا اعلان کیا۔ مشرقی خطہ سعودی عرب کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ وہاں ملک کی تیل کی صنعت کا بڑا حصہ موجود ہے، اور گزشتہ چند ہفتوں میں اس خطے پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔

جمعے کے حملے کی تردید اور کشیدگی کا پس منظر

اتحادی فوج نے جمعے کو بھی مدینہ کے علاقے میں حوثیوں کی طرف سے روانہ کیا گیا ایک ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن حوثی گروپ نے جمعے کو کسی حملے کی تردید کی ہے۔ حوثیوں نے بارہا مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے اور سعودی الزامات کو مسترد کیا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے حالیہ ہفتوں میں سعودی ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات پر حملے تیز کر دیے ہیں، جس سے خلیج میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بھی برقرار ہے اور خطے میں جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کریں گے۔

مزید پڑھیں: مکہ مکرمہ کے علاقے میں ڈرون مار گرائے جانے کی خبر کے لیے https://niazitvnews.com/?p=2854 اور دمام ایئرپورٹ حملے کی تفصیل کے لیے https://niazitvnews.com/?p=1301 ملاحظہ کریں۔

ماخذ: ڈان (یکم نومبر 2026)، روئٹرز۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *