عرب جماعتیں آئزنکوٹ کی حکومت کی حمایت کریں گی
اسرائیل میں عرب جماعتوں نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ہٹانے کے لیے اپوزیشن رہنما گاڈی آئزنکوٹ کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ سینئر عرب رکن پارلیمنٹ احمد طیبی نے کہا ہے کہ جوائنٹ لسٹ نئی حکومت کو باہر سے حمایت دے گی، لیکن وہ حکومت میں شامل نہیں ہوگی اور نہ ہی وزارتی عہدے مانگے گی۔
طیبی کی پیشکش: باہر سے حمایت، حکومت میں شمولیت نہیں
چینل 12 سے گفتگو میں احمد طیبی نے کہا کہ ان کی جماعت ہر اس شخص کی مدد کرنا چاہتی ہے جو موجودہ حکومت کو ہٹا کر نئی حکومت لانا چاہتا ہے۔ ان کے الفاظ میں وہ اصلاح اور امید کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ طیبی نے واضح کیا کہ وہ وزیر کا عہدہ نہیں چاہتے اور نہ ہی کابینہ میں شامل ہونا چاہتے ہیں، لیکن ان کے بقول عرب جماعتوں کے بغیر تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔ انہوں نے آئزنکوٹ سے کہا کہ وہ سابق وزیراعظم اسحاق رابن کی طرح بنیں، جن کی حکومت کو اوسلو معاہدوں کی منظوری کے لیے عرب ارکان پارلیمنٹ کے ووٹوں کی حمایت حاصل تھی۔
شرائط کیا ہیں
جوائنٹ لسٹ کے چیئرمین یوسف جبارین نے الگ انٹرویو میں کہا کہ حمایت کی تین شرائط ہیں: فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف سفارتی عمل، عرب بلدیات میں پرتشدد جرائم کے خاتمے کے لیے فنڈز سے لیس منصوبہ، اور گھروں کی مسماری روکنا۔ جبارین نے بتایا کہ آئزنکوٹ، ڈیموکریٹس کے رہنما یائیر گولان اور نفتالی بینیٹ کی بی یخد پارٹی کے ارکان سے ابتدائی رابطے ہو چکے ہیں، لیکن ایویگڈور لیبرمین سے رابطہ نہیں ہوا۔ طیبی نے یہ بھی کہا کہ جوائنٹ لسٹ صدر اسحاق ہرزوگ کو سفارش کرے گی کہ حکومت سازی کا مینڈیٹ نیتن یاہو مخالف صہیونی جماعتوں کے امیدوار کو دیا جائے، جو غالباً آئزنکوٹ ہوں گے۔
53، 48 اور 19 کا حسابی کھیل
منگل کے انتخابات میں نیتن یاہو کے بلاک نے 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں حاصل کیں، جو 61 کی اکثریت سے 8 کم ہیں۔ اپوزیشن کے پاس 48 نشستیں ہیں اور دو عرب جماعتوں کے پاس 19 نشستیں ہیں، یوں نیتن یاہو مخالف کیمپ مجموعی طور پر 67 نشستوں تک پہنچتا ہے۔ تاہم یشار، بی یخد اور اسرائیل بیتینو نے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد میں بیٹھنے سے انکار کر رکھا ہے، اس لیے باہر سے حمایت ہی واحد راستہ نظر آتا ہے۔ طیبی نے یہ بھی اعلان کیا کہ ان کی جماعت لیکوڈ کے اسپیکر عامر اوہانا کو ہٹانے کے ووٹ اور 7 اکتوبر 2023 کے حملے کی تحقیقات کے لیے ریاستی کمیشن کے قیام کی حمایت کرے گی۔ نئی کنیسٹ کی حلف برداری 10 نومبر کو ہونی ہے، اور حتمی نتائج 4 نومبر کو صدر ہرزوگ کو پیش کیے جائیں گے۔
دوسری طرف دائیں بازو کے کارکنوں نے اتوار کو آئزنکوٹ کے گھر کے باہر احتجاج کا اعلان کیا ہے، جس میں وہ عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے کی مخالفت کریں گے۔
مزید پڑھیں: نئی کنیسٹ کی تیاری کی خبر کے لیے https://niazitvnews.com/?p=2939 اور انتخابات کے حتمی نتائج کے لیے https://niazitvnews.com/?p=2723 ملاحظہ کریں۔
ماخذ: ٹائمز آف اسرائیل، ہارٹز، نیوز 18 (یکم نومبر 2026)۔