فلوریڈا طیارہ حادثہ: 9 افراد ہلاک

0

فلوریڈا کے علاقے پام بیچ کاؤنٹی میں ایک نجی کاروباری طیارہ رہائشی علاقے کے قریب گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 9 افراد ہلاک ہو گئے۔ امریکی وزیر ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے اس حادثے کو ایک خوفناک سانحہ قرار دیا ہے۔ حادثے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی اور تحقیقات جاری ہیں۔

حادثہ کب اور کہاں پیش آیا

امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق یہ حادثہ یکم نومبر 2026 کی دوپہر تقریباً 12 بج کر 50 منٹ پر پیش آیا۔ طیارہ پام بیچ کاؤنٹی کے علاقے گرین ایکرز کے قریب ملٹری ٹریل اور 10 ویں ایونیو نارتھ کے درمیان، کریسٹ ہیون بلیوارڈ کے قریب گرا۔ یہ مقام ویسٹ پام بیچ کے ہوائی اڈے سے تقریباً 4 میل جنوب میں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ مار اے لاگو سے تقریباً 9 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔

حادثے کے بعد طیارے میں آگ بھڑک اٹھی اور ملبہ وسیع علاقے میں بکھر گیا۔ کئی مقامات پر آگ لگی اور سڑک پر ایک بڑا گڑھا پڑ گیا۔ پام بیچ کاؤنٹی شیرف کے دفتر نے ملٹری ٹریل کی تمام لینز کو کریسٹ ہیون بلیوارڈ اور 10 ویں ایونیو نارتھ کے درمیان بند کر دیا۔ مقامی حکام کے مطابق حادثے کے باعث زمین پر نقصان کے سبب تقریباً 600 رہائشیوں کو پناہ گاہوں میں منتقل کرنا پڑا، تاہم حادثے کے وقت تک زمین پر کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔

طیارہ کہاں سے کہاں جا رہا تھا

حادثے کا شکار طیارہ لیر جیٹ 60 تھا جس کا رجسٹریشن نمبر این 722 بی ڈی بتایا گیا ہے۔ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق یہ طیارہ ٹیکساس کے شہر آسٹن کے آسٹن برگسٹروم انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اڑا تھا اور بہاماس کے نارتھ ایلیتھرا ایئرپورٹ جا رہا تھا۔ آسٹن ایئرپورٹ کے ترجمان نے تصدیق کی کہ یہ ایک نجی طیارہ تھا۔ وفاقی ریکارڈ کے مطابق یہ طیارہ ڈیلاویئر میں رجسٹرڈ ایک کمپنی کے نام پر درج ہے اور چارٹر پروازوں کے لیے دستیاب تھا۔

حادثے میں ہلاک ہونے والے 9 افراد کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی ہے اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان میں مسافر اور عملے کے ارکان کی تعداد کتنی کتنی تھی۔ حکام نے متاثرہ خاندانوں کے لیے دعاؤں کی اپیل کی ہے۔

آخری لمحات میں پائلٹ کی پریشان کن کالز

ایئر ٹریفک کنٹرول کی ریکارڈنگز کے مطابق طیارہ تقریباً 35 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا جب پائلٹ نے درمیانی درجے کی ٹربولینس، برف جمنے اور بارش کی اطلاع دی۔ پائلٹ نے مزید 2 ہزار فٹ اوپر جانے کی درخواست بھی کی تھی۔ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق طیارہ ایک منٹ کے دوران تقریباً 27 ہزار فٹ نیچے آ گیا، جس کے بعد ٹریکنگ کا ڈیٹا منقطع ہو گیا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ریکارڈنگ میں پائلٹ کی آخری کالز میں یہ الفاظ بھی سنائی دیے کہ طیارہ زمین سے ٹکرا جائے گا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کالز حادثے کی وجہ ثابت نہیں کرتیں، وجہ کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گا۔

تحقیقات کون کر رہا ہے

امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ اس حادثے کی تحقیقات کی قیادت کر رہا ہے اور فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن اس کی معاونت کر رہی ہے۔ تفتیش کار فلائٹ ڈیٹا، موسمی حالات، طیارے کے نظام اور دیگر شواہد کا جائزہ لیں گے۔ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے کہا ہے کہ اس کی ابتدائی معلومات میں تبدیلی ممکن ہے اور نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ جلد ابتدائی رپورٹ جاری کرنے کی توقع رکھتا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق یہ حادثہ رواں سال امریکہ میں دوسرا مہلک ترین فضائی حادثہ ہے۔ اس سے قبل جون میں مسوری کے شہر بٹلر میں اسکائی ڈائیونگ طیارے کے حادثے میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ لیر جیٹ 60 سے متعلق اب تک کا بدترین حادثہ بھی بتایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل 2008 میں جنوبی کیرولائنا کے شہر کولمبیا سے لاس اینجلس جانے والے لیر جیٹ 60 کے حادثے میں 4 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں: امریکہ میں مڈٹرم انتخابات سے قبل ریکارڈ قبل از وقت ووٹنگ کے بارے میں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3153 — اور پاکستان افغانستان کشیدگی پر امریکی کردار کے بارے میں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3163

ذرائع: سی این این، ایسوسی ایٹڈ پریس، یو ایس اے ٹوڈے، ٹی آر ٹی ورلڈ اور فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے بیانات۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *