بنوں میں پولیس وین کے قریب دھماکے، طالب علم زخمی
بنوں میں اتوار کی رات پولیس کی موبائل وین کے قریب موٹر سائیکل میں نصب دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا جس سے پولیس وین کو جزوی نقصان پہنچا اور پولیس ذرائع کے مطابق ایک طالب علم زخمی ہوا۔ پولیس وین پر سوار تمام اہلکار محفوظ رہے۔
دھماکہ کہاں اور کیسے ہوا
ڈان کی رپورٹ کے مطابق دھماکہ بنوں میں کینٹ پولیس اسٹیشن کی حدود میں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے قریب ہوا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ پولیس کی موبائل وین معمول کی گشت پر تھی جب سڑک کنارے کھڑی موٹر سائیکل میں نصب دھماکہ خیز مواد زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔ دھماکے سے پولیس وین کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ وین میں موجود اہلکار محفوظ رہے۔ زخمی طالب علم کی حالت کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ میں بنوں میں دو الگ دھماکوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ایک دھماکہ میریان گیٹ پولیس پوسٹ کے قریب ہوا جہاں موٹر سائیکل میں نصب دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے موٹر سائیکل مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور قریب کھڑی پولیس وین کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم وہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دوسرا دھماکہ ڈگری ون کالج کے قریب اس وقت ہوا جب پولیس اہلکار معمول کی گشت کر رہے تھے اور کینٹ پولیس اسٹیشن کے ایڈیشنل ایس ایچ او جمیل خان بھی اس وقت موقع پر موجود تھے۔ دی نیوز کی رپورٹ بھی گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے قریب اتوار کو ہونے والے دھماکے کی تصدیق کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ پولیس اہلکار محفوظ رہے۔
پولیس کا ردعمل اور تحقیقات
دھماکے کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی گئیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کی نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین تحقیقات کے بعد کیا جائے گا۔ تاحال کسی گروپ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، اور پولیس کی جانب سے کسی گرفتاری کی اطلاع بھی سامنے نہیں آئی۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ مشکوک اشیا یا سرگرمی نظر آنے پر فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔
بکاخیل میں کواڈ کاپٹر حملہ
ڈان کی اسی رپورٹ میں بنوں کے بکاخیل علاقے میں عارضی نقل مکانی کرنے والوں کے کیمپ کے ٹاور نمبر تین پر کواڈ کاپٹر سے مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد گرائے جانے کا بھی ذکر ہے جس سے تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ بھی اتوار کو پیش آیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنوں اور اس کے ملحقہ علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال مسلسل دباؤ میں ہے۔
بنوں میں سیکیورٹی صورتحال کا پس منظر
بنوں اور اس کے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ کئی ماہ کے دوران پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں جن میں کواڈ کاپٹر حملے، دیسی ساختہ بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ شامل ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اسی علاقے میں 15 اکتوبر کو مسلم آباد کے قریب سرکلر روڈ پر ڈسٹرکٹ سیکیورٹی برانچ کے ہیڈ کانسٹیبل رقیب خان کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں، اور پولیس گشت پر حملے اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بنوں میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں اور گشت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر مشکوک مقامات کے قریب جانے سے گریز کریں اور کسی بھی مشکوک موٹر سائیکل یا پارسل کی اطلاع فوری طور پر قریبی تھانے کو دیں۔
مزید پڑھیں: خیبر میں 7 گرلز اسکول بند ہونے کی خبر (https://niazitvnews.com/?p=3313) اور پاکستان افغانستان کشیدگی پر امریکا کی ثالثی کی پیشکش (https://niazitvnews.com/?p=3200)۔
ماخذ: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، دی نیوز — 2 نومبر 2026