لاہور سموگ: اے کیو آئی 530، دنیا کا آلودہ ترین شہر
لاہور میں 3 نومبر 2026 کی صبح سموگ خطرناک سطح پر پہنچ گئی، جب شہر کا فضائی معیار انڈیکس صبح کے وقت 500 سے اوپر چلا گیا اور صبح 8 بجے باریک ذرات پی ایم 2.5 کی سطح 343 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر تک ریکارڈ ہوئی۔ اس صورتحال نے لاہور کو دنیا کے بڑے شہروں میں سب سے آلودہ شہر بنا دیا، اور لاکھوں شہری خطرناک حد تک آلودہ ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہوئے۔ ٹریبیون کے مطابق آئی کیو ایئر کی درجہ بندی میں لاہور 298 کے انڈیکس کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ پنجاب کے ماحولیاتی ڈیش بورڈ پر لاہور کی ریڈنگ 433 ریکارڈ کی گئی۔ مختلف مانیٹرنگ نظام الگ الگ نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں، اس لیے ان کی ریڈنگ میں فرق آتا ہے۔
علاقہ وار ریڈنگ خطرناک حد تک بلند
لاہور کے مختلف علاقوں میں دن کے ابتدائی حصے میں آلودگی کی سطح انتہائی بلند رہی۔ اقبال ٹاؤن میں ایک یو آئی 902، پیراگون سٹی میں 698، چمن پارک میں 619، برکی روڈ پر 569، ماڈل ٹاؤن میں 471، ڈی ایچ اے فیز فائیو میں 412، بیدیاں روڈ پر 358 اور عسکری ٹین میں 298 ریکارڈ کیا گیا۔ نیشن کے مطابق شہر کی مجموعی ایک یو آئی 530 تک پہنچی، جو صحت کے لیے خطرناک زمرے میں آتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں خشک موسم رہے گا اور بارش کا کوئی امکان نہیں، زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 29 ڈگری سینٹی گریڈ اور ہوا کی رفتار صرف 3 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی، جس سے آلودگی پھیلنے کی بجائے ایک جگہ جمع رہی۔
پنجاب کے دیگر شہر بھی متاثر
شدید فضائی آلودگی صرف لاہور تک محدود نہیں رہی۔ پنجاب کے ماحولیاتی ڈیش بورڈ پر ڈیرہ غازی خان، کوٹ ادو اور ننکانہ صاحب میں ایک یو آئی 500 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گوجرانوالہ میں 606، فیصل آباد اور ملتان میں 310 اور سیالکوٹ میں 260 کی ریڈنگ سامنے آئی۔ صوبائی فہرست میں شیخوپورہ میں 348، قصور میں 343، ساہیوال میں 338، وزیر آباد میں 326 اور خوشاب میں 310 ریکارڈ ہوا۔ آئی کیو ایئر کے مطابق لاہور کے بعد کولکاتا 189 اور دہلی 186 کے انڈیکس کے ساتھ آئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاہور کی آلودگی خطے کے دیگر بڑے شہروں سے کہیں زیادہ تھی۔
سموگ کی وجوہات کیا ہیں
ٹریبیون کے مطابق حکومت کے انسداد سموگ اقدامات کی مؤثریت پر سوال اٹھ رہے ہیں، کیونکہ فصلوں کی باقیات جلانا، صنعتی اور گاڑیوں کا دھواں اور تعمیراتی گرد لاہور اور ملحقہ اضلاع میں آلودگی کو بڑھا رہے ہیں۔ شیخوپورہ، قصور، گوجرانوالہ، ننکانہ صاحب اور کئی دیگر اضلاع بھی متاثر ہوئے۔ صنعتی ایندھن کا استعمال، بھٹے، پرالی جلانا، کچرے کو ٹھکانے لگانے کے طریقے اور ٹرانسپورٹ سے نکلنے والا دھواں اس مسئلے میں اضافہ کرتے ہیں۔ ایک ویب سائٹ کے مطابق ناسا کے سیٹلائٹس نے یکم سے 29 اکتوبر کے دوران پنجاب میں 13 ہزار 241 آگ کے مقامات کا پتا لگایا، جو پرالی جلانے کے پیمانے کی نشاندہی کرتا ہے۔
شہریوں کے لیے احتیاطی تدابیر
شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں اور باہر جاتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو بھاری آلودگی کے دوران خاص طور پر محتاط رہنا چاہیے۔ صبح کے وقت جب دھند اور سموگ سب سے زیادہ ہوتی ہے، بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو گھر کے اندر رہنا چاہیے اور کھڑکیاں دروازے بند رکھنے چاہئیں۔ ماہرین کے مطابق بارش نہ ہونے اور ہوا کی سست رفتار سے آلودگی کے جلد ختم ہونے کا امکان کم ہے، اس لیے شہریوں کو روزانہ کی بنیاد پر فضائی معیار کی تازہ ریڈنگ دیکھ کر اپنے معمولات طے کرنے چاہئیں۔
مزید پڑھیں: لاہور سموگ سے متعلق ہماری خبر https://niazitvnews.com/?p=3252 اور دھند کے باعث موٹروے بندش کی خبر https://niazitvnews.com/?p=3394
ماخذ: ٹریبیون، نیشن اور آئی کیو ایئر، 3 نومبر 2026۔