گندم کاشتکار مہنگی کھاد سے پریشان، ڈی اے پی 23 فیصد مہنگی
پاکستان کے گندم کاشتکار اس وقت کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے سخت پریشان ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد ڈی اے پی کھاد کی قیمت میں 23 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے کئی کاشتکار مہنگی کھاد چھوڑ کر سستی متبادل کھاد استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ کھاد کے کم استعمال سے گندم کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے اور ملک کو درآمدات پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈی اے پی کی قیمت کہاں پہنچ گئی
فوجی فرٹیلائزر کمپنی کی قیمتوں کی فہرست کے مطابق 50 کلو گرام ڈی اے پی کی بوری اب 17,183 روپے کی ہو گئی ہے۔ امریکا اسرائیل ایران جنگ 28 فروری کو شروع ہونے سے پہلے یہی بوری 14,009 روپے کی تھی، یعنی اب تک 3,174 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ بازار میں خوردہ قیمت اس سے بھی زیادہ ہے اور کئی علاقوں میں ڈی اے پی تقریباً 18,000 روپے فی بوری میں فروخت ہو رہی ہے۔ ڈی اے پی وہ کھاد ہے جو گندم کے پودے کی جڑوں کو مضبوط بناتی ہے اور فصل کی نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس کی قیمت بڑھنے کی وجہ خلیج سے ترسیل میں خلل اور پیداواری لاگت میں اضافہ بتائی جا رہی ہے۔
کاشتکار سستی کھاد کی طرف منتقل
میرپورخاص کے گاؤں جھربی میں نو ایکڑ پر گندم کاشت کرنے والے منیر احمد نے بتایا کہ وہ ڈی اے پی استعمال نہیں کر سکتے اور اب 23-23 یعنی نائٹروفاسفیٹ استعمال کر رہے ہیں۔ نائٹروفاسفیٹ کی بوری تقریباً 10,500 روپے کی ہے جو ڈی اے پی سے تقریباً 42 فیصد سستی ہے۔ لیکن منیر احمد کو خدشہ ہے کہ اس تبدیلی سے ان کی پیداوار متاثر ہوگی۔ ان کے اندازے کے مطابق نائٹروفاسفیٹ سے فی ایکڑ 25 من پیداوار مل سکتی ہے جبکہ ڈی اے پی سے 45 سے 50 من تک پیداوار ممکن ہوتی ہے۔ ایک اور کاشتکار نے بتایا کہ ڈی اے پی کی ایک بوری لگانے سے فی ایکڑ 30 سے 35 من کا فرق پڑتا ہے۔ یہ فرق چھوٹے کاشتکاروں کے لیے بہت بڑا ہے کیونکہ ان کی آمدنی کا دارومدار اسی فصل پر ہوتا ہے۔
کھاد کی فروخت میں کمی
اعداد و شمار سے بھی یہ دباؤ ظاہر ہوتا ہے۔ نیشنل فرٹیلائزر ڈیولپمنٹ سینٹر کے اعداد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران ڈی اے پی کی فروخت گزشتہ سال کے مقابلے میں 3 فیصد کم ہو کر 775,000 ٹن رہ گئی۔ کھاد کے کم استعمال سے قومی سطح پر گندم کی پیداوار اور آٹے کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
حکومت کی امدادی اسکیمیں
دوسری طرف حکومت نے ربیع سیزن کے لیے کاشتکاروں کی مدد کے کئی اقدامات کا اعلان کر رکھا ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کے مطابق گندم کی مجوزہ امدادی قیمت 4,500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے۔ کسان کارڈ کے ذریعے ربیع سیزن کے لیے 150 ارب روپے کے بلا سود قرضے دیے جا رہے ہیں جن میں ڈی اے پی کی خریداری کے لیے فی ایکڑ 3,500 روپے کی اضافی سہولت بھی شامل ہے۔ پنجاب میں تصدیق شدہ بیج پر بھی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ امدادی قیمت اور قرضوں کی سہولت اہم ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسانوں کو یہ رقم وقت پر اور پوری ملے گی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کھاد کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جائے ورنہ سستی کھاد کے استعمال سے پیداوار میں کمی آئے گی اور اس کا بوجھ آخر کار عام صارف پر آٹے کی صورت میں پڑے گا۔
مزید پڑھیں:
https://niazitvnews.com/?p=1625
https://niazitvnews.com/?p=1266
ماخذ: عرب نیوز، اردو پوائنٹ، ڈان — 3 نومبر 2026