گل پلازہ مسمار ہوگا: سندھ حکومت نے بولیاں طلب کر لیں

0

کراچی کے تاریخی تجارتی مرکز گل پلازہ کو مسمار کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ سندھ حکومت نے آگ سے تباہ شدہ اور ساختی طور پر کمزور عمارت کو گرانے کے لیے دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں سے بولیاں طلب کر لی ہیں۔ سرکاری اعلان کے مطابق مسماری کا عمل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی نگرانی میں ہوگا اور اس کے لیے تکنیکی و مالی تجاویز الگ الگ طلب کی گئی ہیں۔ بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر مقرر کی گئی ہے۔

تکنیکی کمیٹی نے عمارت ناقابل استعمال قرار دی تھی

حکام کے مطابق مسماری کا فیصلہ تکنیکی کمیٹی کی سفارش پر کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے جنوری میں اپنی رپورٹ پیش کی تھی جس میں تباہ شدہ عمارت کو استعمال کے قابل نہ قرار دیتے ہوئے اسے گرانے کی سفارش کی گئی تھی۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ تباہی کی شدت کو دیکھتے ہوئے کمیٹی نے عمارت کے مسمار کرنے کی سفارش کی تھی، یہی وجہ ہے کہ اب اس پر عمل درآمد شروع کیا گیا ہے۔

ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کئی دہائیوں تک کراچی کے بڑے تجارتی مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ 8,128 مربع گز رقبے پر قائم اس شاپنگ کمپلیکس میں سینکڑوں کاروبار قائم تھے اور یہ شہر کے مقبول ترین شاپنگ مقامات میں سے ایک تھا۔ کراچی میں آج بجلی کی بندش اور شہری سہولتوں کی صورتحال پر ہماری یہ خبر بھی پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3358

جنوری 2026 کی آگ: 72 جانیں، 1153 سے زیادہ دکانیں تباہ

گل پلازہ میں جنوری 2026 میں خوفناک آگ لگی تھی جس پر قابو پانے کی کارروائی کئی روز تک جاری رہی تھی۔ اس المناک واقعے میں 72 افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ 1,153 سے زیادہ دکانیں تباہ ہو گئی تھیں۔ ہزاروں تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا اور ان کا کاروبار مکمل طور پر ختم ہو گیا تھا۔

اس سانحے نے شہر کی گنجان آباد تجارتی عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات، ہنگامی ردعمل کے نظام اور حفاظتی معیارات پر بھی سنگین سوالات اٹھائے تھے۔ تاجروں اور متاثرہ خاندانوں کا کہنا تھا کہ عمارت میں حفاظتی انتظامات ناکافی تھے اور آگ بجھانے کی کارروائی میں تاخیر نے نقصان بڑھا دیا تھا۔ سندھ میں دیگر ترقیاتی و عوامی منصوبوں کی صورتحال پر ہماری یہ خبر پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3421

تاجروں کے لیے آگے کیا ہوگا؟

مسماری کے بعد سب سے بڑا سوال متاثرہ تاجروں کی بحالی کا ہے۔ ہزاروں دکاندار گزشتہ کئی ماہ سے اپنے کاروبار کی بحالی کے منتظر ہیں۔ تاجر تنظیموں کا مطالبہ رہا ہے کہ متاثرین کو متبادل جگہ یا معاوضہ دیا جائے تاکہ وہ دوبارہ اپنا روزگار شروع کر سکیں۔ تاحال حکومت کی جانب سے بحالی کے کسی حتمی منصوبے کا اعلان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم مسماری کو بحالی کے عمل کا پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کی مسماری کراچی کے تجارتی منظرنامے میں ایک باب کا خاتمہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ شہر کی پرانی اور خطرناک عمارتوں کی حفاظت کے معاملے پر بھی توجہ دلاتی ہے۔ اگر حفاظتی معیارات پر سختی سے عمل نہ ہوا تو مستقبل میں بھی ایسے سانحات کا خطرہ برقرار رہے گا۔

ذرائع: ڈان، 3 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *