بیلجیئم بحران: بادشاہ نے استعفیٰ پر مشاورت شروع کر دی

0

بیلجیئم کے بادشاہ فلپ نے وزیراعظم بارٹ ڈی ویور کے استعفے پر فیصلہ کرنے سے پہلے اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت شروع کر دی ہے۔ منگل 3 نومبر کو بادشاہ نے سب سے پہلے اتحادی جماعت لیس اینگیز کے چیئرمین ایوان ویروگسٹریٹ سے ملاقات کی، جس کے بعد سی ڈی اینڈ وی کے چیئرمین سیمی مہدی سے بھی تقریباً ایک گھنٹے کی ملاقات ہوئی۔ بادشاہ نے پیر کو ڈی ویور کا استعفیٰ موصول ہونے کے بعد اپنا فیصلہ مؤخر کر دیا تھا۔

استعفیٰ کیوں پیش کیا گیا؟

بیلجیئم کی پانچ جماعتی اتحادی حکومت 2027 کے وفاقی بجٹ پر متفق نہ ہو سکی، جس کے بعد وزیراعظم نے اپنا استعفیٰ بادشاہ کو پیش کر دیا۔ حکومت کو 2029 تک تقریباً 10 ارب یورو کی بچت کے اقدامات پر اتفاق کرنا تھا تاکہ ملک کا بجٹ خسارہ کم کیا جا سکے۔ اتوار کی شام شروع ہونے والا کابینہ کا بند کمرہ اجلاس پیر کی رات تقریباً ایک بجے بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوا، اور پیر کی صبح ڈی ویور نے شاہی محل میں بادشاہ سے ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ ملاقات کی۔

بیلجیئم کی شاہی خاندان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بادشاہ نے معاہدے کی عدم موجودگی پر افسوس کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ ملک طویل سیاسی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بادشاہ نے جماعتوں پر زور دیا کہ وہ مذاکرات جاری رکھیں اور ملک کو ایک قابل اعتماد بجٹ دیں۔

مشاورت کا شیڈول کیا ہے؟

بیلجیئم میڈیا کے مطابق بادشاہ کی مشاورت کا سلسلہ کئی روز جاری رہے گا۔ منگل کو لیس اینگیز اور سی ڈی اینڈ وی کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بعد بدھ کو ووروٹ کے کونر روسو اور اصلاح پسند تحریک (ایم آر) کے جارجز لوئی بوشے سے ملاقات متوقع ہے، جبکہ جمعرات کو نیو فلیمش الائنس (این وی اے) کی والیری وین پیل سے ملاقات ہوگی۔ وزیراعظم ڈی ویور جمعہ 6 نومبر کو صبح ساڑھے دس بجے دوبارہ شاہی محل میں بادشاہ سے ملیں گے، جس کے بعد استعفے پر حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

مشاورت کا مقصد اتحادی جماعتوں کے مؤقف کا جائزہ لینا اور یہ دیکھنا ہے کہ آیا بجٹ پر اب بھی کوئی معاہدہ ممکن ہے یا نہیں۔ بیلجیئم میں 3 نومبر کو بجٹ معاہدے کے لیے ایک سیاسی ڈیڈلائن کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، کیونکہ 2027 کا بجٹ دسمبر کے آخر تک منظور ہو کر یکم جنوری سے نافذ ہونا ہے۔ اگر ڈیڈلائن گزر جائے تو ملک کو عارضی بجٹ کے نظام کے تحت چلنا پڑ سکتا ہے، جس میں ہر ماہ گزشتہ سال کے بجٹ کا صرف بارہواں حصہ خرچ کیا جا سکے گا۔

ایریزونا اتحاد کیا ہے؟

ڈی ویور فروری 2025 سے پانچ جماعتی مرکز دائیں اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں، جسے ایریزونا اتحاد کہا جاتا ہے۔ اس اتحاد میں ان کی اپنی فلیمش قوم پرست جماعت این وی اے، فرانسیسی بولنے والی لبرل جماعت اصلاح پسند تحریک، فلیمش سوشلسٹ جماعت ووروٹ، فلیمش کرسچن ڈیموکریٹ جماعت سی ڈی اینڈ وی اور فرانسیسی بولنے والی مرکز پرست جماعت لیس اینگیز شامل ہیں۔ اتحاد کے اندر اخراجات میں کٹوتی اور ٹیکسوں میں اضافے پر اختلافات برقرار ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ڈی ویور نے استعفے کی دھمکی دی ہو۔ گزشتہ سال بھی اسی طرح کے بجٹ تعطل کے دوران وہ استعفیٰ پیش کرنے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ مبصرین کے مطابق استعفیٰ پیش کرنا اتحادی رہنماؤں پر دباؤ ڈالنے کا ایک حربہ بھی ہو سکتا ہے تاکہ وہ بجٹ پر رعایت دینے پر آمادہ ہو جائیں۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

اگر بادشاہ بالآخر ڈی ویور کا استعفیٰ قبول کر لیتے ہیں تو بیلجیئم کو یا تو نیا حکومتی اتحاد بنانا ہوگا یا قبل از وقت انتخابات کی طرف جانا ہوگا۔ اگر جماعتیں جمعہ سے پہلے بجٹ پر معاہدہ کر لیتی ہیں تو حکومت بچ سکتی ہے اور ڈی ویور اپنے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں۔ یورپی یونین کے قواعد کے تحت بیلجیئم کو اپنا خسارہ کم کرنا ہے، اس لیے بجٹ کا فیصلہ صرف ملکی سیاست تک محدود نہیں بلکہ یورپ بھر میں بھی توجہ کا مرکز ہے۔

مزید عالمی خبروں کے لیے پڑھیں: یوکرین پر رات بھر بڑا حملہ (https://niazitvnews.com/?p=3493) اور مغربی صحارا مشن 35 سال بعد ختم (https://niazitvnews.com/?p=3489)۔

ماخذ: اے نیوز، نیکسس یورپا، بینکاک پوسٹ اور بیلجیئم میڈیا، 3 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *