کاغان میں شدید برفباری، کے پی گلگت ٹریفک معطل
وادی کاغان میں پیر کو شدید برفباری ہوئی جس سے درجہ حرارت تیزی سے گر گیا اور خیبر پختونخوا سے گلگت بلتستان جانے والی ٹریفک عارضی طور پر معطل ہو گئی۔ ڈان کی 3 نومبر کی رپورٹ کے مطابق برفباری صبح سویرے شروع ہوئی اور دن بھر وقفے وقفے سے جاری رہی، جس کے بعد انتظامیہ نے مانسہرہ ناران جلکھڈ سڑک پر احتیاطی پابندیاں عائد کر دیں۔
کہاں کہاں برفباری ہوئی؟
برفباری بابوسر ٹاپ، سیف الملوک جھیل، بٹاکنڈی، بسال، لولوسر جھیل، ناران اور وادی کاغان کے دیگر حصوں میں ہوئی۔ یہ تمام مقامات سیاحوں میں خاصے مقبول ہیں، اس لیے برفباری کی خبر نے فوری طور پر سفر کی منصوبہ بندی کرنے والوں کی توجہ حاصل کر لی۔ وادی کاغان کے وائلڈ لائف افسر عبدالرشید تنولی نے بھی درجہ حرارت میں نمایاں کمی کی تصدیق کی ہے۔
مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے حکام کے مطابق برفباری کے باعث سڑکیں پھسلن کا شکار ہو گئیں، جس سے گاڑیوں کی آمدورفت خطرناک ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے مرحلے میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے درمیان ٹریفک کو عارضی طور پر روک دیا گیا۔
سڑکوں کی تازہ صورتحال کیا ہے؟
پولیس حکام کے مطابق بعد میں مانسہرہ ناران جلکھڈ سڑک کو ناران تک ٹریفک کے لیے صاف کر دیا گیا۔ ناران وادی کاغان کا مرکزی تجارتی مرکز ہے، اس لیے اس حد تک آمدورفت بحال ہونا مقامی کاروبار اور سیاحوں دونوں کے لیے اہم ہے۔ تاہم سیاحوں کو ناران سے آگے بابوسر ٹاپ کی طرف جانے سے عارضی طور پر روک دیا گیا ہے اور یہ پابندی موسم بہتر ہونے تک برقرار رہے گی۔
ناران سے سیف الملوک جھیل جانے والی سڑک فور وہیل ڈرائیو گاڑیوں کے لیے کھلی ہے، اور حکام کے مطابق سیاح اب بھی وادی کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ بابوسر ٹاپ وادی کاغان کو گلگت بلتستان سے ملانے والا بلند پہاڑی راستہ ہے، اس لیے اس راستے کی بندش سے گلگت بلتستان جانے کے خواہشمند مسافروں کے سفری منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔
سیاحوں کے لیے احتیاطی تدابیر
سفر سے پہلے سڑکوں کی تازہ صورتحال ضرور معلوم کریں، کیونکہ ناران تک سڑک کھلنے کا مطلب یہ نہیں کہ پورا راستہ کھلا ہے۔ برفباری کے دوران پہاڑی سڑکوں پر پھسلن اچانک بڑھ سکتی ہے، اس لیے غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔ گاڑی میں گرم کپڑے، خوراک اور ایندھن کا مناسب انتظام رکھیں، اور رات کے وقت بلند مقامات کی طرف سفر سے پرہیز کریں۔
موسم کی صورتحال تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے اگر آپ ناران یا اس سے آگے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو روانگی سے پہلے مقامی پولیس یا انتظامیہ سے تازہ معلومات لے لیں۔ بچوں اور بزرگوں کے ساتھ سفر میں اضافی احتیاط برتیں، کیونکہ شدید سردی میں درجہ حرارت اچانک گر سکتا ہے۔
وادی کاغان میں سردیوں کے موسم کا آغاز سیاحت کے لیے ایک نیا مرحلہ ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی سڑکوں اور موسم سے جڑے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ انتظامیہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور موسم بہتر ہوتے ہی بابوسر ٹاپ کی طرف پابندیوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا کی مزید خبریں پڑھیں: محمند میں پولیو ٹیم پر حملہ (https://niazitvnews.com/?p=3449) اور افغان واپسی: طورخم سے روزانہ 1145 افراد (https://niazitvnews.com/?p=3465)۔
ماخذ: ڈان اور دی نیوٹرل، 3 نومبر 2026۔