امریکی مڈٹرم: ڈیموکریٹس نے دونوں ایوان جیت لیے
امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو 2006 کے بعد پہلی بار ہے کہ اقتدار سے باہر جماعت نے ایک ہی مڈٹرم میں دونوں ایوان واپس لیے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نتائج قبول کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں، تاہم انہوں نے ویٹو کے اختیار کے استعمال کا عندیہ بھی دیا ہے۔
سینیٹ اور ایوان میں تاریخی کامیابیاں
نیویارک پوسٹ اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے آئیووا، کنساس، مین، نارتھ کیرولائنا، اوہائیو، ساؤتھ کیرولائنا اور ٹیکساس میں سینیٹ کی نشستیں پلٹ دیں، جبکہ ایوان نمائندگان میں بھی انہیں واضح اکثریت حاصل ہوئی۔ ایوان میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کی تفصیل اس سے پہلے کی رپورٹ میں دی گئی تھی https://niazitvnews.com/?p=3584
ٹیکساس میں ڈیموکریٹ جیمز ٹیلاریکو نے ریپبلکن کین پیکسٹن کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست جیتی، جو 1988 کے بعد ریاست میں ڈیموکریٹس کی پہلی ریاستی سطح کی کامیابی ہے۔ اوہائیو اور ٹیکساس میں گورنر کی دوڑ میں بھی ڈیموکریٹس نے تاریخی کامیابیاں حاصل کیں https://niazitvnews.com/?p=3595
سینیٹ میں نیویارک کے چک شومر اور ایوان میں حکیم جیفریز اب اپنی اپنی جماعت کی قیادت کریں گے۔ جیفریز نے کہا کہ امریکہ واپس آ گیا ہے، جبکہ شومر نے کہا کہ ڈیموکریٹس نے تمام مشکلات کے باوجود کامیابی حاصل کی ہے اور اب عوام کو ریلیف ملے گا۔
ٹرمپ کا ردعمل: نتائج قبول، ویٹو کا عندیہ
صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ڈیموکریٹس نے اچھا کام کیا اور سخت مقابلہ کیا۔ انہوں نے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں کہا کہ وہ نتائج کو مکمل طور پر قبول کرنے کو تیار ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے پولیٹیکو کو بتایا کہ انہیں ہر چیز کو ویٹو کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن وہ دو سال تک صرف ویٹو پر بیٹھنا نہیں چاہتے بلکہ ڈیموکریٹس کے ساتھ کام کریں گے، جنہوں نے ان سے پہلے ہی رابطہ کر لیا ہے۔
ٹرتھ سوشل پر ٹرمپ نے لکھا کہ وہ خود بیلٹ پر نہیں تھے اور اگر ہوتے تو زبردست کامیابی ملتی۔ اس کے برعکس، انتخابات سے دو ہفتے قبل آئیووا میں ریلی میں انہوں نے ریپبلکنز سے کہا تھا کہ وہ ایسا برتاؤ کریں جیسے وہ خود بیلٹ پر ہوں۔
شکست کی وجوہات پر ریپبلکنز میں اختلاف
ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایگزٹ پول کے مطابق 62 فیصد ووٹرز نے قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ٹرمپ کی پالیسیوں کو قرار دیا، جبکہ 71 فیصد کا کہنا تھا کہ کانگریس کو صدر پر زیادہ چیک رکھنا چاہیے۔ ٹرمپ نے شکست کا ایک حصہ ایران جنگ کے اثرات کو قرار دیا اور کہا کہ لوگ ایران پر ان کے موقف سے متفق ہیں، لیکن پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے قلیل مدتی نتائج برداشت کرنے کو تیار نہیں تھے۔
ٹرمپ کے کئی حامیوں نے ایران جنگ کو مہنگائی اور شرح سود میں اضافے کی وجہ قرار دیا، جبکہ وائٹ ہاؤس نے امیدواروں کے معیار کو ذمہ دار ٹھہرایا، حالانکہ کئی ریپبلکن امیدوار ٹرمپ کے اپنے منتخب کردہ تھے۔ ایوان کے اسپیکر مائیک جانسن نے تسلیم کیا کہ تاریخ ان کے خلاف تھی، کیونکہ 90 سال میں صرف دو بار کسی صدر کی جماعت نے پہلے مڈٹرم میں نشستیں برقرار رکھی ہیں۔
آگے کیا ہوگا
ڈیموکریٹس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول کے بعد ٹرمپ کے آخری دو سال میں ان کا قانون سازی کا ایجنڈا رکاوٹ کا شکار ہو سکتا ہے، کابینہ اور عدالتی تقرریاں مشکل ہو سکتی ہیں، اور ایوان کی نگرانی کمیٹی کی جانب سے تحقیقات کا امکان ہے۔ ایوان کی نگرانی کمیٹی کے آئندہ چیئرمین نے ٹرمپ کے حامیوں کو دو الفاظ میں جواب دیا ہے: وکیل کر لو۔ حتمی اعداد ابھی مکمل نہیں ہوئے، کیونکہ الاسکا سمیت کچھ ریاستوں میں گنتی سست روی سے جاری ہے۔
ماخذ: نیویارک پوسٹ، ایسوسی ایٹڈ پریس، این ڈی ٹی وی پرافٹ لائیو اپڈیٹس، 4 نومبر 2026۔