اسرائیل: انتخابی نتائج کی توثیق، نیتن یاہو کا دعویٰ مسترد
اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے بدھ 4 نومبر 2026 کو گزشتہ ہفتے کے پارلیمانی انتخابات کے تصدیق شدہ نتائج باضابطہ طور پر قبول کر لیے ہیں اور نئی حکومت کی تشکیل کے لیے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت شروع کر دی ہے۔ اسرائیل کے مرکزی الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ووٹوں کی جانچ میں دھاندلی کا کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا جس سے انتخاب کی ساکھ یا نتائج متاثر ہوئے ہوں، جو وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے ووٹ کو مشکوک بنانے کی کوشش کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
نتائج کیا ہیں؟
27 اکتوبر کے ووٹ میں نیتن یاہو کے مذہبی قوم پرست بلاک نے 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں حاصل کیں، جبکہ حزب اختلاف کے رہنما گاڈی آئزن کوٹ کے بلاک نے 48 نشستیں لیں۔ عرب جماعتوں رعام اور جوائنٹ لسٹ نے مجموعی طور پر ریکارڈ 19 نشستیں جیتیں۔ حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی اکثریت درکار ہے، جو کسی بھی بلاک کے پاس نہیں ہے، اس لیے اسرائیل کو اتحادی حکومت کی پیچیدہ مذاکرات کا سامنا ہے۔
کمیشن نے دھاندلی کا دعویٰ کیوں مسترد کیا؟
الیکشن کمیشن نے 9,069 پولنگ اسٹیشنوں کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ ایسی کوئی بے ضابطگی نہیں ملی جس نے انتخاب کی سالمیت کو نقصان پہنچایا ہو یا نتائج بدلے ہوں۔ کمیشن کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس نعام سولبرگ نے نتائج پیش کرنے کی تقریب میں کہا کہ نتائج پر شک کرنے والے اسرائیل کی جمہوریت کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہیں۔ کمیشن کی پانچ رکنی صدارت میں یش عتید اور بلیو اینڈ وائٹ کے نمائندوں نے نتائج کی توثیق کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ لیکود اور شاس نے رائے شماری سے اجتناب کیا اور سولبرگ نے فیصلہ کن ووٹ دیا۔
ہرزوگ کی مشاورت کیسے ہوگی؟
صدر ہرزوگ نے روایت سے ہٹ کر پہلے چھوٹی جماعتوں سے ملاقات شروع کی ہے، جن میں ریلیجیس زیونزم، شاس اور اسرائیل بیتینو شامل ہیں۔ بڑی جماعتیں لیکود اور آئزن کوٹ کی یشار جمعرات کی شام آخر میں ملیں گی۔ دو دن کی مشاورت کے بعد صدر اس امیدوار کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیں گے جس کے بارے میں ان کا خیال ہو کہ وہ اتحادی حکومت بنا سکتا ہے۔ نامزد امیدوار کو حکومت بنانے کے لیے 28 دن ملیں گے، جس میں 14 دن کی توسیع ممکن ہے۔ اگر کوئی حکومت نہ بنا سکا تو اگلے سال کے آغاز میں نیا انتخاب ہو سکتا ہے۔
نیتن یاہو کے لیے کیا خطرہ ہے؟
نیتن یاہو کے بلاک نے کنیسٹ میں اپنی اکثریت کھو دی ہے، اور پانچ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے 3 نومبر کو ہرزلیا میں ملاقات کر کے پہلے ہی آئزن کوٹ کی حمایت پر اتفاق کیا تھا۔ ان میں آئزن کوٹ، نفتالی بینیٹ، ایوگڈور لیبرمین، یائر گولان اور یائر لپید شامل تھے۔ تاہم یہ اتحاد آسان نہیں ہے، کیونکہ لیبرمین نے عرب جماعتوں کی حمایت پر انحصار کی مخالفت کی ہے، جبکہ گولان نے ان کے ساتھ تعاون کی کھل کر حمایت کی ہے۔
غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات جاری
ایک علیحدہ معاملے میں شن بیٹ انٹیلی جنس سروس کی جانب سے انتخاب میں مبینہ غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات ابھی جاری ہے۔ کمیشن کی نجی میٹنگ میں شن بیٹ کی ایک تشخیص پڑھ کر سنائی گئی جس میں کہا گیا کہ اسرائیل میں بیرونی ریاستوں سے بھاری رقوم کی آمد کا ایک وسیع رجحان تھا، جن میں اسرائیل کے مخالف ممالک بھی شامل ہیں۔ یہ الزام الگ ہے اور کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اس سے ووٹ کے نتائج متاثر نہیں ہوئے۔
آگے کیا ہوگا؟
نئی کنیسٹ کی حلف برداری 10 نومبر کو متوقع ہے، چاہے حکومت سازی مکمل ہو یا نہ ہو۔ صدر ہرزوگ کو باضابطہ نتائج کے اعلان کے سات دن کے اندر، یعنی 11 نومبر تک، حکومت بنانے کا کام سونپنا ہے۔ اگر آئزن کوٹ اور نیتن یاہو دونوں ناکام رہے تو اسرائیل ایک بار پھر انتخاب کی طرف جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3677
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3661
ذرائع: الجزیرہ، دی ہندو، دی ویک (اے پی)، 4 نومبر 2026۔