وکلاء کا بڑا اعلان — لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار نے ایمرجنسی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا، ایکشن کمیٹی کا اجلاس آج کراچی میں

0
عدالت کی عمارت کا علامتی منظر — وکلاء کی ریلی اور عدالتی احاطے کی تصویر

لاہور — لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور بار ایسوسی ایشن نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ دونوں بارز کے مشترکہ جنرل ہاؤس اجلاس میں ایمرجنسی کے اقدام کی سخت مذمت کی گئی۔

حامد خان: “جب تک عدلیہ اور آئین بحال نہیں ہوتے، وکلاء کی جدوجہد جاری رہے گی”

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر قانون دان سینیٹر حامد خان نے کہا کہ جب تک عدلیہ اور آئین بحال نہیں ہوتے، وکلاء کی جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے سہیل آفریدی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ثابت کیا کہ عہدے اہمیت نہیں رکھتے۔

حامد خان نے بتایا کہ وکلاء ایکشن کمیٹی کا اجلاس آج (منگل) کراچی میں ہوگا، جس میں آئندہ کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں صرف ایک حقیقی حکومت تھی، باقی سب جعلی اور فوجی حکومتیں ہیں۔

سپریم کورٹ میں مشترکہ درخواست کا اعلان

صدر لاہور ہائیکورٹ بار بابر مرتضیٰ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف سپریم کورٹ میں مشترکہ درخواست دائر کریں گی۔ قانون دان رائے محمد علی نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی 2009 میں بھی غیر قانونی اور غیر آئینی تھی، اور آج بھی یہ اقدام آئین کے مطابق نہیں ہو سکتا۔

ریلی اور پولیس سے تصادم

اجلاس کے بعد وکلاء نے لاہور ہائیکورٹ سے جی پی او چوک تک ریلی نکالی۔ مال روڈ اور جی پی او چوک پر ریلی کے دوران پولیس اور وکلاء کے درمیان تصادم بھی ہوا، پولیس نے راستہ بند کر کے وکلاء کو آگے بڑھنے سے روکا۔

ذرائع: ڈیلی پاکستان، اردو پوائنٹ (13 اکتوبر 2026) — تمام دعوے متعلقہ شخصیات کے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *