اسحاق ڈار کا سینیٹ میں انکشاف — پی ٹی آئی کو ایمرجنسی ٹالنے کی 4 شرائط دی تھیں، انکار پر صوبائی حکومت برطرف

0
اسلام آباد میں سینیٹ کا خالی ایوان — اسحاق ڈار کا چار شرائط کا انکشاف

نائب وزیر اعظم اور سینیٹ میں قائد ایوان اسحاق ڈار نے منگل کو سینیٹ میں بتایا کہ وفاقی کابینہ نے پی ٹی آئی قیادت کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے بچنے کی 4 شرائط دی تھیں، جن سے انکار کے بعد صوبائی حکومت برطرف کی گئی۔

چار شرائط کیا تھیں؟

اسحاق ڈار کے مطابق کابینہ کی شرائط یہ تھیں: (1) وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی تبدیلی، (2) دہشت گردی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی واضح مذمت، (3) دہشت گردی کے خلاف مرکز کی جنگ میں کے پی حکومت کا مکمل تعاون، اور (4) صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ پر آمادگی۔ ڈار نے ایوان میں سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی اور اس کی قیادت نے دہشت گردی کی مذمت کتنی بار کی، اور الزام لگایا کہ کے پی میں حکمران جماعت حالیہ ہفتوں میں لوگوں کو ملک کے خلاف اکسا رہی تھی۔

فضل الرحمن کے ذریعے پیغام

ڈار کے مطابق کابینہ کا فیصلہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ذریعے پہنچایا گیا، تاہم “دوسری طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا”۔ انہوں نے کہا کہ کے پی اسمبلی چھ ماہ بعد فعال ہو جائے گی جبکہ صوبائی حکومت کی بحالی میں ایک سے دو سال لگ سکتے ہیں۔

اپوزیشن کا جواب

پی ٹی آئی کے پارلیمانی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے اقدام کو “سیاسی بحران جو سکیورٹی حل کے روپ میں” قرار دیا اور کہا کہ آرٹیکل 232 ہنگامی طاقت ہے، سیاسی ہتھیار نہیں۔ ان کے مطابق عدالتوں کو اقدامات کی قانونی حیثیت کا تعین کرنے کی آزادی رہنی چاہیے۔ اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے 11 اکتوبر کو “سیاہ دن” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سیاسی مسائل پر معاہدہ ہو گیا تھا، مگر سکیورٹی اور سیاسی مسائل کو جوڑنے پر اختلاف پیدا ہوا۔

آگے کیا؟

سینیٹ میں ایمرجنسی کے اقدامات پر بحث جاری ہے اور کارروائی بدھ کی سہ پہر 4 بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ اپوزیشن نے ایمرجنسی کے فوری خاتمے کی قرارداد بھی جمع کرا رکھی ہے۔

ذرائع: دی نیشن، ڈان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *