پشاور اسکول حادثے کے بعد بڑا قدم — خیبرپختونخوا بھر میں نجی اسکولوں کی عمارتوں کے معائنے کا حکم، 3 دن کی مہلت

0
اے آئی سے بنی تصویر — خالی اسکول کی عمارت (اصل شخصیات کی شباہت نہیں)

پشاور کے ڈیر کالونی علاقے میں الخیر اسکول کی چھت گرنے کے المناک حادثے کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔ تعلیمی محکمے کو ہدایت کی گئی ہے کہ صوبے بھر میں نجی اسکولوں کی عمارتوں کی جانچ کے لیے ضلعی کمیٹیاں بنائی جائیں، جو 3 دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کریں۔ خبر رساں ادارے اے پی کی دیکھی ہوئی سرکاری دستاویز کے مطابق معائنہ میں چھتوں، دیواروں، ستونوں، بیمز، بنیادوں اور سیڑھیوں سمیت عمارت کے تمام حصوں کی جانچ شامل ہوگی۔ (یاد رہے کہ اسی حادثے کی مکمل خبر اس سے قبل شائع کی گئی تھی — یہ پوسٹ تازہ ترین پیش رفت ہے۔)

حادثے کی تفصیل

الجزیرہ اور اے پی کے مطابق جمعرات (15 اکتوبر 2026) کو صبح کے اسباق کے دوران اسکول کی چھت گر گئی تھی، جس سے 13 سال یا اس سے کم عمر کے 34 بچے اور ایک استانی جاں بحق ہوئے۔ (نوٹ: یہ تعداد میڈیا رپورٹس کے حوالے سے دی گئی ہے۔) ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال فیضی کے مطابق ملبے سے کم از کم 40 بچے زندہ نکالے گئے، اور چھت مٹی اور اینٹوں کی روایتی تعمیر کی تھی۔

معائنہ کیسے ہوگا

سرکاری حکم کے مطابق عمارتوں کو تین درجوں میں تقسیم کیا جائے گا: محفوظ، مرمت یا بہتری کی محتاج، اور ممکنہ طور پر غیر محفوظ۔ یہ معائنہ کرائے کی اور ملکیتی دونوں طرح کی عمارتوں پر لاگو ہوگا۔

مالک گرفتار، تحقیقات جاری

پشاور پولیس کے سربراہ سعید احمد کے مطابق عمارت ساختی طور پر کمزور تھی، اور اسکول کے مالک محمد خان کو حادثے کے روز ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق مالک نے بتایا کہ حالیہ بارشوں نے چھت کمزور کر دی تھی۔

خاندانوں کا مطالبہ

سوگوار خاندان انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایک عزیز نے میڈیا کو بتایا کہ اس نے مالک کو پہلے ہی رساؤ کی شکایت کی تھی۔ (دعویٰ میڈیا رپورٹ کے حوالے سے۔)

ذرائع: الجزیرہ (16 اکتوبر 2026)، عرب نیوز پاکستان/اے پی (16 اکتوبر 2026)، جیو نیوز۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *