ایم کیو ایم پاکستان کا بڑا مطالبہ — شہری سندھ کے لیے “نئے اور بااختیار انتظامی یونٹس” ضروری: خالد مقبول صدیقی

0
اے آئی سے بنی تصویر — شام کے وقت کراچی کی اسکائی لائن اور انتظامی عمارتیں (اصل شخصیات کی شباہت نہیں)

ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہری اضلاع کے مسائل کے حل کے لیے نئے اور بااختیار انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ دہرایا ہے۔ یہ مطالبہ انہوں نے اتوار کی رات بہادرآباد ہیڈکوارٹرز میں متحدہ لائرز فورم اور قانونی ماہرین کے اجلاس سے خطاب میں کیا۔

خطاب میں کیا کہا گیا؟

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ اختیارات کی عدم منتقلی نے کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہری اضلاع میں عوامی بے چینی کو ہوا دی ہے، اور ان مسائل کا حل صرف ایسے نئے انتظامی یونٹس میں ہے جو بااختیار ہوں۔ ان کے مطابق شہری سندھ کے عوام کو ان کا جائز حق دلائے بغیر مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں۔

عدالتی اصلاحات اور کارکنان

اجلاس میں عدالتی اصلاحات اور زیرحراست کارکنان کی رہائی کے قانونی پہلوؤں پر بھی غور کیا گیا، اور اس سلسلے میں قانونی حکمت عملی پر مشاورت ہوئی۔

پس منظر

نئے صوبوں کی بحث 30 جولائی کو محسن نقوی کے بیان سے شروع ہوئی تھی۔ پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کی مخالفت کر چکی ہے، جبکہ 3 ستمبر کو سندھ اسمبلی نے متفقہ قرارداد کے ذریعے تقسیم کی تجویز مسترد کر دی تھی۔ ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کا مطالبہ صوبے کی تقسیم نہیں، بلکہ شہری علاقوں کے لیے بااختیار انتظامی ڈھانچہ ہے۔

ذرائع: ایکسپریس ٹربیون

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *