آبنائے ہرمز کے قریب جنوبی ایران میں متعدد دھماکے — ایرانی میڈیا کا انکشاف، وجہ نامعلوم

0

آبنائے ہرمز کے قریب جنوبی ایران میں 21 اکتوبر کی رات متعدد دھماکے سنے گئے ہیں، جس سے امریکا اور ایران کے درمیان پہلے سے کشیدہ صورتحال میں مزید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ اطلاع ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔

سریک کے قریب کیرپن کا علاقہ

ارنا کے مطابق دھماکے آبنائے ہرمز کے قریب بحیرہ عمان کے ساحل پر واقع صوبہ ہرمزگان کے شہر سریک کے قریب کیرپن کے علاقے میں ہوئے۔ بی بی سی عربی کے مطابق ارنا نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ علاقہ کسی حملے کا نشانہ بنا یا وہاں سے میزائل داغے گئے تھے۔

فارس نیوز ایجنسی نے بھی دھماکوں کی تصدیق کی لیکن ان کی وجہ نامعلوم قرار دی۔ ابھی تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ دھماکے اس ماہ کے دوران اس علاقے میں اس نوعیت کے پہلے دھماکے بتائے جا رہے ہیں، جو امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں حالیہ ہفتوں کی نسبتاً خاموشی کے بعد سامنے آئے ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ

ان دھماکوں کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 111 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی بڑھ گئی۔ سرمایہ کاروں میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے قریب سات تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اسی پس منظر میں دھماکوں کی یہ خبر مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

اسی روز ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سیاسی نائب یداللہ جوانی نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی توانائی کی تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو آبنائے ہرمز کے سمندری فرش سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ دھمکی کشیدگی کے مزید پھیلنے کے خدشات کو بڑھا رہی ہے۔

نوٹ: دھماکوں کی وجہ اور نقصان کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے؛ یہ رپورٹ ایرانی میڈیا کے حوالے سے ہے۔

ذرائع: ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا، بی بی سی عربی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *