آج پٹرول کی قیمت: 13 اکتوبر کو پٹرول 2.93 روپے سستا، ڈیزل مزید مہنگا — نئی قیمتیں نافذ
اسلام آباد: حکومت نے 13 اکتوبر (منگل) سے نافذ العمل پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں جاری کر دی ہیں — پٹرول کی قیمت میں 2.93 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 61 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق منگل سے ہو چکا ہے اور یہ 13 اکتوبر تک نافذ رہیں گی۔
نئی قیمتیں کیا ہیں؟
تازہ ترین نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت 398.30 روپے سے کم ہو کر 395.37 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے (کمی: 2.93 روپے)۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 396.24 روپے سے بڑھ کر 396.85 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے (اضافہ: 61 پیسے)۔ اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی ایکس ڈپو قیمتیں حکومت کے مقرر کردہ میکانزم کے تحت نظرثانی کی ہیں، جس میں عالمی منڈی کی پیش رفت، پلیٹس ریٹس اور دیگر اخراجات کو مدنظر رکھا گیا۔
روزانہ قیمتوں کا نظام کیسے کام کرتا ہے؟
حکومت نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر روزانہ ایندھن کی قیمتوں کا نظام اپنایا ہے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق روزانہ قیمتیں عالمی منڈی کی پچھلے سات دنوں کی اوسط پر مبنی ہوتی ہیں، جو عالمی معمول کے مطابق ہے۔ نئے فریم ورک کے تحت اوگرا وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری کے بغیر روزانہ ایکس ڈپو قیمتیں جاری کر سکتا ہے، جبکہ جمعے کو جاری کی گئی قیمتیں ہفتے اور اتوار کو برقرار رہتی ہیں۔ اس سے پہلے پیٹرولیم کی قیمتوں میں دو ہفتے بعد نظرثانی ہوتی تھی۔
گزشتہ ہفتے کی قیمتیں
جمعہ 9 اکتوبر کو حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 66 پیسے کمی کر کے اسے 398.30 روپے فی لیٹر مقرر کیا تھا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 52 پیسے اضافہ کر کے اسے 396.24 روپے فی لیٹر کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے 8 اکتوبر کو پٹرول 396.65 روپے اور ڈیزل 394.94 روپے فی لیٹر تھا۔ یعنی روزانہ نظرثانی کے نظام میں قیمتیں مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔
عالمی منڈی کی صورتحال
پیر کو بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا اور وہ تقریباً دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں — برینٹ خام تیل 106.76 ڈالر فی بیرل پر پہنچا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں کمی کی گئی، جس کی وجہ قیمتوں کے تعین کا سات روزہ اوسط میکانزم ہے (یہ مکینزم کی وضاحت ہے، حکومت کا اعلامیہ نہیں)۔
عوام پر اثر کیا پڑے گا؟
پٹرول عام طور پر نجی کاروں اور موٹرسائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل بسیں، ٹرک، زرعی مشینری اور دیگر ٹرانسپورٹ چلاتا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے مال برداری کی لاگت بڑھ سکتی ہے، جو بالآخر اشیاء کی قیمتوں میں منتقل ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
نوٹ: یہ پوسٹ 13 اکتوبر کی نئی قیمتوں پر ہے؛ 12 اکتوبر کی سابقہ قیمتوں والی پوسٹ اس سے پہلے شائع کی گئی تھی۔
ماخذ: Geo News، Aaj News، SAMAA TV، Business Recorder