اسحاق ڈار کا مصری ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ — حوثی حملوں کی شدید مذمت، سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعادہ
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کو مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی جس میں انہوں نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔
ٹیلی فونک گفتگو میں کیا طے پایا؟
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے حوثی حملوں کی شدید مذمت کی اور سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی حمایت کے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے آر فور فریم ورک — جس میں پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب شامل ہیں — کے تحت تعاون پر تبادلہ خیال کیا اور اس کے اگلے اجلاس کے منتظر رہنے پر اتفاق کیا۔
مصر کا مؤقف
مصری وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ڈاکٹر بدر عبدالعاطی نے زور دیا کہ خلیجی سلامتی مصر کی قومی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے آبنائے اور بحری راستوں کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کو مسترد کیا جبکہ دونوں وزرائے خارجہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا۔
ایرانی ہم منصب سے بھی رابطہ
اسی روز اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے بھی ٹیلی فون پر بات کی جس میں علاقائی صورتحال اور بغداد میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس (17 تا 18 اکتوبر) پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
پس منظر — حوثی حملوں میں شدت
اکتوبر کے دوران حوثی حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 10 اکتوبر کو ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں سعودی حکام کے حوالے سے 12 سے زائد افراد کے ہلاک اور 300 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں (یہ اعداد سعودی حکام کے حوالے سے رپورٹ ہوئے)۔ اتوار کی صبح سعودی قیادت والے اتحاد نے خمیس مشیط کی طرف داغے گئے 2 بیلسٹک میزائل روکنے کا دعویٰ کیا۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی پہلے کہہ چکے ہیں کہ اگر درخواست کی گئی تو مصر سعودی عرب کا دفاع کرے گا۔
ذرائع: اے نیوز، عرب نیوز پاکستان، ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، ایجپٹ ٹوڈے