اسٹاک مارکیٹ آج: کے ایس ای 100 فلیٹ بند

0

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر 26 اکتوبر کو شدید اتار چڑھاؤ کے بعد بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریبا فلیٹ بند ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 162,370.44 پوائنٹس پر بند ہوا، جو گزشتہ بندش 162,374.87 کے مقابلے میں صرف 4.43 پوائنٹس کم ہے۔ یعنی دن بھر کی بڑی گراوٹ کے باوجود مارکیٹ نے تقریبا سارا نقصان پورا کر لیا۔
دن کے آغاز میں فروخت کا دباؤ اتنا شدید تھا کہ انڈیکس 1,000 سے زیادہ پوائنٹس گر کر 161,250.06 پوائنٹس کی دن کی کم ترین سطح تک پہنچ گیا تھا۔ دوپہر 12:45 بجے تک انڈیکس 161,744.83 پوائنٹس پر تھا، جو 630.01 پوائنٹس یا 0.39 فیصد کم تھا۔ بعد میں خریداری نے مارکیٹ کو سنبھالا دیا اور انڈیکس فلیٹ سطح پر بند ہوا۔

کن شعبوں میں فروخت ہوئی

فروخت کا دباؤ تقریبا تمام بڑے شعبوں میں دیکھا گیا، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں اور ریفائنریز شامل ہیں۔ سرمایہ کار اسٹیٹ بینک کے مانیٹری پالیسی فیصلے سے پہلے محتاط رہے، کیونکہ تجزیہ کار شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس اضافے کی توقع کر رہے تھے۔
مارکیٹ کی کمزوری کی ایک وجہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بھی رہی، جس سے توانائی کے راستوں اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں پیر کو چھ ماہ کی بلند ترین سطح سے نیچے آئیں، جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی، لیکن سعودی عرب پر حملوں کے باعث سرمایہ کار پھر بھی محتاط رہے۔

پانچ ہفتوں کی گراوٹ کا پس منظر

پیر کی گراوٹ سے پہلے مارکیٹ مسلسل پانچ ہفتوں سے گر رہی تھی۔ گزشتہ ہفتے کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس 4,044.84 پوائنٹس یا 2.4 فیصد گر کر 162,374.84 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ اس گراوٹ کی وجوہات میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی خسارے میں وسعت اور مسلسل جغرافیائی سیاسی کشیدگی شامل رہی ہیں۔
دن کے اختتام پر مارکیٹ کی مجموعی تصویر ملی جلی رہی۔ ایک مارکیٹ ٹریکر کے مطابق 162 حصص میں اضافہ ہوا، 302 میں کمی آئی اور 53 بغیر تبدیلی کے رہے، یعنی زیادہ تر حصص گرے، لیکن بڑے انڈیکس کو سنبھالنے میں بھاری حصص نے مدد کی۔ دن میں تقریبا 12.60 ارب روپے مالیت کے حصص کا کاروبار ہوا۔

آگے کیا دیکھا جائے گا

سرمایہ کاروں کی نظریں اب اسٹیٹ بینک کے مانیٹری پالیسی فیصلے پر ہیں، جو پیر کو ہی متوقع ہے۔ اگر شرح سود بڑھائی گئی تو قرض لینا مہنگا ہوگا، جبکہ شرح برقرار رہنے کی صورت میں مارکیٹ کو کچھ سہارا مل سکتا ہے۔ تاہم مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور تیل کی قیمتیں بھی آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت طے کریں گی۔
مزید پڑھیں: شرح سود آج: اسٹیٹ بینک کا بڑا فیصلہ متوقع — https://niazitvnews.com/?p=2021
مزید پڑھیں: ڈالر ریٹ آج 26 اکتوبر: انٹربینک 277.20 روپے — https://niazitvnews.com/?p=2042
ذرائع: پرافٹ (پاکستان ٹوڈے) اور پی ایس ایکس ایکسپرٹ کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *