ایران پر حملہ اسی ہفتے ممکن — امریکی ایلچی
امریکی ایلچی ٹام بیرک نے کہا ہے کہ امریکہ اسی ہفتے کے آخر میں ایران پر حملہ کر سکتا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امکان سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔ ترکیہ میں امریکی سفیر اور شام کے لیے خصوصی ایلچی بیرک نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں سوال پر جواب دیا: “بالکل ممکن ہے۔” انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ٹرمپ اب بھی معاہدے کے لیے تیار ہیں اور مہینوں سے مذاکرات جاری ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو آٹھ ماہ ہونے والے ہیں اور سفارت کاری میں تعطل برقرار ہے۔ ٹرمپ نے فلوریڈا میں ایک ریلی میں کہا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف “ایک اور چھوٹی ایپک فیوری” کارروائی کر سکتا ہے — یہ اس فوجی آپریشن کا نام ہے جو پہلے ایران کے خلاف کیا گیا تھا۔ تاہم جب صحافیوں نے بیرک کے بیان پر سوال کیا تو ٹرمپ نے حیرت سے کہا: “یہ میرا سفیر تھا؟ اگر ایسا ہے تو مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔”
بیرک کا موقف اور ٹرمپ کا تضاد
بیرک نے واضح کیا کہ ممکنہ امریکی کارروائی کا مقصد ایران کی حکومت کا تختہ الٹنا نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق امریکہ کے صدر حکومت کی تبدیلی میں دلچسپی نہیں رکھتے، کیونکہ اصل سوال یہ ہے کہ “دوسرے دن کا منظرنامہ کیا ہوگا؟” یہ موقف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے موقف سے مختلف ہے، جنہوں نے حالیہ دنوں میں بار بار ایران کی مذہبی حکومت کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ نیتن یاہو کو 27 اکتوبر کو انتخابات کا سامنا ہے۔
ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ 3 نومبر کو امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے کوئی بڑی کارروائی نہیں ہوگی۔ تاہم اب ان کے بیانات میں نرمی اور سختی دونوں نظر آ رہی ہیں — ایک طرف وہ معاہدے کی بات کرتے ہیں، دوسری طرف فوجی آپریشن کا اشارہ دیتے ہیں۔ اس تضاد نے خطے میں غیر یقینی صورتحال بڑھا دی ہے۔
تیل کی قیمت اور خطے کی کشیدگی
اس کشیدگی کا فوری اثر تیل کی عالمی قیمتوں پر پڑا ہے۔ برینٹ خام تیل جمعے کو تقریباً 3.5 فیصد بڑھ کر ایک موقع پر 117 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا، جو اپریل کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے۔ جنگ سے پہلے فروری میں یہ قیمت تقریباً 72 ڈالر تھی، جبکہ اپریل کے آخر میں یہ 126 ڈالر کے قریب پہنچ گئی تھی۔
اسی ہفتے ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں چار تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے خمیس مشیط کی جانب داغا گیا حوثی بیلسٹک میزائل روک لیا ہے، اور فلائی دبئی نے سعودی عرب کے لیے پروازوں کی منسوخی 29 اکتوبر تک بڑھا دی ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تفصیل https://niazitvnews.com/?p=1356 میں دیکھی جا سکتی ہے۔
سفارت کاری اور آگے کیا؟
یورپی اور مشرق وسطیٰ کے وزرائے خارجہ نے استنبول میں آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی پر ملاقات کی ہے، لیکن ابھی تک کسی جنگ بندی یا ٹائم ٹیبل کا اعلان نہیں ہوا۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر نیا امریکی-اسرائیلی حملہ ہوا تو وہ خلیج میں تیل کی تنصیبات، زیر سمندر کیبلز اور ڈیٹا سینٹرز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بعض سفارتکاروں اور سرکاری عملے کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ اس پس منظر میں خطے کے ممالک، بشمول پاکستان، صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست پاکستان کی معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس سے قبل خطے کی کشیدگی پر https://niazitvnews.com/?p=1579 میں بھی تفصیل شائع ہوئی تھی۔
اب سب کی نظریں اس ہفتے کے آخر پر ہیں — آیا بیرک کی وارننگ حقیقت بنتی ہے، یا ٹرمپ کی لاعلمی درست ثابت ہوتی ہے اور سفارت کاری کو ایک اور موقع ملتا ہے۔
ذرائع: ڈان، اسٹریٹس ٹائمز (اے ایف پی)، انڈین ایکسپریس لائیو بلاگ — 24 اکتوبر 2026۔