بلوچستان میں 5.7 شدت کا زلزلہ — خضدار کے قریب جھٹکے، سندھ تک لرزے، کوئی جانی نقصان نہیں

0
اے آئی سے بنی تصویر — طلوع آفتاب میں بلوچستان کے پہاڑی قصبے کا منظر (اصل شخصیات کی شباہت نہیں)

ہفتہ 17 اکتوبر 2026 کی صبح 10 بج کر 6 منٹ پر (پاکستان وقت) بلوچستان کے ضلع خضدار کے قریب 5.7 شدت کا زلزلہ آیا۔ امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق زلزلے کا مرکز خضدار سے تقریباً 48 کلومیٹر مغرب-شمال مغرب میں تھا اور اس کی گہرائی صرف 10 کلومیٹر تھی، یعنی یہ ایک اتھلا (شیلو) زلزلہ تھا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق خوش قسمتی سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

زلزلہ کب اور کہاں آیا

یو ایس جی ایس کے ریکارڈ کے مطابق زلزلہ صبح 05:06 یو ٹی سی (10:06 بجے پاکستان وقت) پر آیا۔ مرکز کے جغرافیائی نقاط 28.0 ڈگری شمال اور 66.2 ڈگری مشرق ریکارڈ کیے گئے۔ یہ علاقہ انڈین اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہے، جو زلزلوں کے لحاظ سے دنیا کے متحرک ترین زونز میں شمار ہوتا ہے۔

شدت کے بارے میں مختلف اداروں کی رپورٹیں

مختلف اداروں نے زلزلے کی شدت کے بارے میں قدرے مختلف اعداد بتائے ہیں — یہ ابتدائی گھنٹوں میں معمول کی بات ہے۔ جرمنی کے جی ایف زیڈ ادارے نے 5.6 شدت (رائٹرز کے حوالے سے)، بھارت کے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی نے 5.8 شدت اور 15 کلومیٹر گہرائی بتائی، جبکہ ایکسپریس ٹریبیون نے خضدار اور گردونواح میں 5.9 شدت کے جھٹکے رپورٹ کیے۔ یو ایس جی ایس کا 5.7 کا اعداد بین الاقوامی حوالے کے طور پر سب سے زیادہ استعمال ہوا۔

کہاں کہاں جھٹکے محسوس کیے گئے

بلوچستان میں جھٹکے خضدار کے علاوہ قلات، سوراب، جھل مگسی، جعفرآباد اور نصیرآباد میں بھی محسوس کیے گئے۔ سندھ کے اضلاع سکھر، قمبر، شہدادکوٹ اور دادو تک جھٹکے پہنچے۔ کئی شہروں میں لوگ خوف کے عالم میں گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ یہ سمندری زلزلہ نہیں تھا، اس لیے سونامی کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔

جانی یا مالی نقصان کی تازہ صورتحال

ضلعی انتظامیہ نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ ابھی تک کسی جانی نقصان یا املاک کے نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ایمرجنسی سروسز کو آفٹر شاکس کے پیش نظر الرٹ رکھا گیا ہے۔ یو ایس جی ایس نے زلزلے کے لیے ییلو الرٹ جاری کیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ کچھ نقصان یا جانی نقصان کا امکان موجود تھا، لیکن زیادہ سے زیادہ شدت VII (بہت تیز) کے تخمینے کے باوجود عملی صورتحال بہتر رہی۔

زلزلہ کیوں آیا — فالٹ زون کی وضاحت

پاکستان انڈین پلیٹ اور یوریشین پلیٹ کے ٹکراؤ والے خطے پر واقع ہے، جہاں پلیٹیں مسلسل ایک دوسرے کی طرف دباؤ ڈال رہی ہیں۔ بلوچستان اسی فالٹ سسٹم کا حصہ ہے، اسی لیے یہاں وقتاً فوقتاً زلزلے آتے ہیں۔ 10 کلومیٹر کی کم گہرائی کا مطلب تھا کہ جھٹکے سطح پر زیادہ محسوس ہوئے، لیکن خوش قسمتی سے مرکز آبادی سے دور تھا۔

زلزلے کے وقت احتیاطی تدابیر

ماہرین کی ہدایات کے مطابق زلزلے کے دوران گھبراہٹ سے بچیں، مضبوط میز یا فرنیچر کے نیچے پناہ لیں، کھڑکیوں اور شیشے سے دور رہیں۔ عمارت سے باہر نکلتے وقت لفٹ کا استعمال نہ کریں۔ زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا امکان رہتا ہے، اس لیے کمزور عمارتوں میں دوبارہ داخل ہونے سے پہلے احتیاط کریں۔

رواں سال کے دیگر زلزلے

رواں سال پاکستان میں متعدد زلزلے آ چکے ہیں: 26 جون 2026 کو 75 کلومیٹر گہرائی میں 5.3 شدت کا زلزلہ، 7 ستمبر کو 4.1 شدت کا واقعہ، جبکہ اکتوبر کے اوائل میں افغانستان میں بھی 5.3 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ سلسلہ خطے کی ٹیکٹونک سرگرمی کا فطری حصہ ہے۔

ذرائع: رائٹرز/جی ایف زیڈ، یو ایس جی ایس، ایکسپریس ٹریبیون، ڈیلی ایکسلسیر — 17 اکتوبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *