بیرسٹر گوہر کا 11 اکتوبر کو جمہوریت کی تاریخ کا سیاہ دن قرار دینا، آج پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کا اعلان

0
Press conference outside Parliament House Islamabad — file image / اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس — فائل فوٹو

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے پیر (12 اکتوبر) کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ ذاتی طور پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کو منگل (آج) پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ ان کے ساتھ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی آج اپنی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں فیصلہ کرے گی کہ صوبائی اسمبلی میں ان اقدامات کی کیسے مخالفت کی جائے (دی ایکسپریس ٹربیون)۔

11 اکتوبر کو جمہوریت کی تاریخ کا سیاہ دن

بیرسٹر گوہر نے 11 اکتوبر کو پاکستان کی جمہوری تاریخ کا “سیاہ دن” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا: “ہم ہر فورم پر اپنی آواز اٹھائیں گے۔ ہمارا لانگ مارچ جاری ہے اور ہمارے احتجاج جاری رہیں گے۔ ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔” ان کے مطابق صوبے کے عوام نے ایمرجنسی اور گورنر راج کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ صوبائی وزیراعلیٰ کو حراست میں رکھا گیا ہے اور پارٹی کے حامی جیلوں میں ہیں — یہ بیرسٹر گوہر کا اپنا دعویٰ ہے، حکومت نے اس کا ابھی جواب نہیں دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا: “وفاق مضبوط تبھی ہوگا جب صوبے مضبوط ہوں گے۔” (دی ایکسپریس ٹربیون)

حکومت پر ہٹ دھرمی کا الزام

چیئرمین پی ٹی آئی نے حکومت پر ہٹ دھرمی کا الزام لگایا اور کہا کہ صوبائی حکومت کا ڈھانچہ اچانک تبدیل کر دیا گیا۔ ان کے مطابق پارٹی آخری لمحے تک حکومت کے ساتھ رابطے میں رہی، لیکن صورتحال بگڑ گئی۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کو تقسیم نہ کرے، دہشت گردی “پاکستان کے لیے ایک لعنت” ہے اور پاکستان کا مستقبل جمہوریت میں ہے۔

پشاور ہائی کورٹ میں دوسری درخواست بھی دائر

اسی دوران پیر کو ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف ایک الگ درخواست پشاور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی۔ ایڈووکیٹ سلمان کی جانب سے دائر درخواست میں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اقدام غیر آئینی، غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ہے، بنیادی حقوق، صوبائی خودمختاری، جمہوری مینڈیٹ اور آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، اور گورنر راج کے نوٹیفکیشن کو معطل کیا جائے۔ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور شدت پسندانہ واقعات میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا، جو آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ہے۔

آج کا دن کیوں اہم ہے

آج کے روز تین اہم پیشرفتیں متوقع ہیں: بیرسٹر گوہر کا پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج، پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، اور شام 6:15 بجے قومی اسمبلی و سینیٹ کے اجلاس جن میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری پر غور ہوگا۔ آج کے فیصلے آنے والے دنوں میں صوبے کی سیاسی صورتحال کی سمت طے کریں گے۔

ماخذ: The Express Tribune

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *