دیامر بھاشا ڈیم: 133 ارب کا معاہدہ طے

0

پاکستان کے سب سے بڑے ڈیم منصوبے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں ایک اور اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ڈیم کے ہائیڈرو مکینیکل کاموں کے لیے 133 ارب 18 کروڑ روپے کا معاہدہ پاور چائنہ آئیکان جوائنٹ وینچر کے ساتھ طے کر لیا ہے۔ معاہدے پر دستخط ہفتے کو لاہور میں واپڈا ہاؤس میں ہونے والی تقریب میں کیے گئے، جسے ڈان اخبار نے 25 اکتوبر کے شمارے میں شائع کیا ہے۔

معاہدے پر دستخط کس نے کیے

واپڈا کی جانب سے دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے چیف انجینئر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر عارف علی نے معاہدے پر دستخط کیے، جب کہ جوائنٹ وینچر کی جانب سے مجاز نمائندے لنگ جیانکے نے دستخط کیے۔ تقریب میں واپڈا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمد سعید، ممبر فنانس، ممبر واٹر، ممبر پاور، دیامر بھاشا ڈویلپمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو، پاور چائنہ انٹرنیشنل گروپ لمیٹڈ کے چیئرمین کی قیادت میں جوائنٹ وینچر کا وفد اور منصوبے کے کنسلٹنٹس کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

ایچ ایم ون معاہدے میں کیا شامل ہے

یہ معاہدہ ایچ ایم ون کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس میں ڈیم کے ہائیڈرو مکینیکل آلات اور ہائیڈرولک اسٹیل اسٹرکچرز شامل ہیں۔ اس کام میں پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے والے گیٹس اور اسٹیل اسٹرکچرز کی تیاری، فراہمی اور تنصیب شامل ہے۔ یہ آلات ڈیم کے دونوں کناروں پر واقع فلشنگ ٹنلز، پاور انٹیکس اور آؤٹ لیٹس پر نصب کیے جائیں گے۔ معاہدے میں اسٹیل لائننگ، ہوسٹنگ سسٹم، پمپنگ سسٹم اور متعلقہ الیکٹریکل کام بھی شامل ہیں۔ واپڈا کے ترجمان کے مطابق یہ آلات ڈیم کے آپریشن کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

ڈیم کیوں اہم ہے

دیامر بھاشا ڈیم وفاقی حکومت کا ترجیحی منصوبہ ہے جس کا مقصد ملک کی پانی، خوراک اور توانائی کی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ ڈیم دریائے سندھ پر چلاس شہر سے 40 کلومیٹر نیچے کی جانب تعمیر کیا جا رہا ہے۔ مکمل ہونے پر اس میں 81 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی اور اس سے 4500 میگاواٹ سستی اور ماحول دوست پن بجلی پیدا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق پانی کے ذخیرے میں اضافہ آبپاشی کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا، جب کہ سستی بجلی سے ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پس منظر اور اگلے مراحل

دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کے ان بڑے منصوبوں میں شامل ہے جن پر کئی برسوں سے کام جاری ہے۔ ایچ ایم ون معاہدہ اس بات کی علامت ہے کہ منصوبہ اب معاہدوں کے مرحلے سے آگے بڑھ کر آلات کی تیاری اور تنصیب کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ تاہم ابھی فنانسنگ کی تفصیلات، ترسیل کے شیڈول اور تعمیراتی سنگ میل جیسی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ حکومت اور واپڈا کے مطابق یہ منصوبہ مکمل ہونے پر ملک کی معیشت اور توانائی کے شعبے پر دیرپا مثبت اثرات مرتب کرے گا۔

مزید پڑھیں: ایران کا پاکستان کو یقین: ایل پی جی پر کوئی پابندی نہیں (link to https://niazitvnews.com/?p=1886)
مزید پڑھیں: کراچی میں لوڈشیڈنگ 15 گھنٹے تک پہنچ گئی (link to https://niazitvnews.com/?p=1897)

ماخذ: ڈان 25 اکتوبر 2026، دی نیشن، بزنس ریکارڈر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *