سربیا الیکشن: ووچچ نے شکست تسلیم کر لی

0

سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچچ نے اتوار 25 اکتوبر 2026 کو ہونے والے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات میں شکست تسلیم کر لی ہے۔ ووچچ نے بیلگریڈ میں اپنی جماعت سربین پروگریسو پارٹی کے انتخابی مرکز میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی نمونوں کی بنیاد پر یہ واضح ہے کہ ان کی جماعت الیکشن ہار گئی ہے اور طلبہ کی حمایت یافتہ اسٹوڈنٹس لسٹ نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔

ووچچ نے کیا کہا

ووچچ نے کہا کہ ان کے اندازوں کے مطابق 250 رکنی قومی اسمبلی میں اسٹوڈنٹس لسٹ 135 سے 140 نشستیں حاصل کرے گی جبکہ ان کی جماعت کو تقریباً 105 نشستیں ملیں گی۔ پارلیمانی اکثریت کے لیے 126 نشستیں درکار ہوتی ہیں، اس لیے یہ نتیجہ طلبہ تحریک کو حکومت بنانے کی پوزیشن میں لے آتا ہے۔ ووچچ نے اپنی شکست کا ذمہ دار آزاد میڈیا، بعض نامعلوم یورپی ممالک کی مبینہ مداخلت اور امریکی ڈیپ اسٹیٹ کو قرار دیا۔

ووچچ نے یہ بھی بتایا کہ ان کی جماعت کو تقریباً 17 لاکھ 20 ہزار ووٹ ملے جبکہ اسٹوڈنٹس لسٹ کو تقریباً 22 لاکھ ووٹ ملے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حتمی سرکاری نتائج ابھی آنا باقی ہیں اور ان کا اعتراف شکست ایک منظم نمونے پر مبنی ابتدائی اندازے پر ہے، نہ کہ مکمل سرکاری گنتی پر۔

طلبہ تحریک کیسے جیتی

اسٹوڈنٹس لسٹ کوئی روایتی سیاسی جماعت نہیں بلکہ طلبہ کی قیادت میں بننے والی ایک وسیع تحریک ہے جس کے 250 امیدواروں میں وکلاء، اساتذہ، اداکار اور کسان شامل ہیں۔ اس تحریک کا کوئی واحد عوامی رہنما نہیں ہے، اور اس نے دو برس تک حکومت مخالف احتجاج کی قیادت کی۔ انتخابی مانیٹر سی آر ٹی اے کے مطابق اسٹوڈنٹس لسٹ نے 51.47 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ ووچچ کی فہرست کو 40.42 فیصد ووٹ ملے۔ آزاد سروے اداروں اپسوس اور سی ایس آئی ڈی کے ابتدائی تخمینے میں بھی اسٹوڈنٹس لسٹ کو 52 فیصد ووٹ اور 138 نشستیں دی گئیں۔

ووٹنگ کے دن ٹرن آؤٹ بھی غیر معمولی رہا۔ شام سات بجے تک ٹرن آؤٹ 67.6 فیصد ریکارڈ کیا گیا جو 1992 کے بعد سب سے زیادہ بتایا جا رہا ہے۔ سربیا کے 64 لاکھ ووٹرز نے 250 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے۔

نووی ساد سانحہ پس منظر

طلبہ تحریک کی جڑیں نومبر 2024 میں نووی ساد ریلوے اسٹیشن کی چھت گرنے کے سانحے میں ہیں جس میں 16 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مظاہرین اس سانحے کو بدعنوانی اور غفلت کی علامت قرار دیتے رہے اور حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کرتے رہے۔ اس سانحے کے بعد شروع ہونے والے احتجاج نے آہستہ آہستہ ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر لی اور بالآخر قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ سامنے آیا۔

ووچچ 2014 سے وزیراعظم یا صدر کے طور پر سربیا پر حکمرانی کر رہے تھے۔ وہ ستمبر 2026 کے آخر میں صدارت سے مستعفی ہوئے تھے تاکہ قبل از وقت انتخابات میں حصہ لے کر دوبارہ وزیراعظم بن سکیں، لیکن اب یہ منصوبہ ناکام ہو گیا ہے۔

بیلگریڈ میں جشن اور آگے کیا ہوگا

ووچچ کے اعتراف شکست کے فوراً بعد بیلگریڈ کی سڑکوں پر جشن شروع ہو گیا۔ ہزاروں افراد نے شہر کی مرکزی شاہراہوں پر جمع ہو کر فتح کے نعرے لگائے، گاڑیوں نے ہارن بجائے اور آتش بازی کی گئی۔ اسٹوڈنٹس لسٹ کے مرکز میں حامی ایک دوسرے کو گلے لگا کر روتے اور جشن مناتے نظر آئے۔

اب اصل امتحان اسٹوڈنٹس لسٹ کے لیے ہوگا کہ وہ 250 مختلف پس منظر کے امیدواروں پر مشتمل ایک متنوع گروپ کو ایک حکومت میں کیسے بدلتی ہے۔ ووچچ کی جماعت کے علاوہ اقلیتی جماعتوں نے بھی چند نشستیں حاصل کی ہیں، جن میں ووجوودینا کے ہنگری باشندوں کی جماعت کی تین اور ایک البانوی فہرست کی ایک نشست شامل ہے۔ سربیا کے انتخابی کمیشن کے حتمی نتائج آنے کے بعد حکومت سازی کا عمل واضح ہوگا۔

مزید پڑھیں: سربیا الیکشن سے قبل طلبہ تحریک اور ووچچ کے درمیان سخت مقابلے کی تفصیل کے لیے یہ خبر دیکھیں: https://niazitvnews.com/?p=1891

مزید پڑھیں: بیلگریڈ میں ڈیڑھ لاکھ افراد کی ریلی کے بارے میں یہ خبر پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=1507

ذرائع: سی این این، رائٹرز، عرب نیوز اور اے پی کی 25 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *