شرح سود آج: اسٹیٹ بینک کا بڑا فیصلہ متوقع
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی پیر 26 اکتوبر 2026 کو اجلاس کر رہی ہے جس میں ملک کی شرح سود کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں اور فیصلے کے بعد مرکزی بینک کے ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس میں اس کا اعلان متوقع ہے۔ مارکیٹ میں اس وقت سب سے زیادہ بحث اس بات پر ہے کہ آیا شرح سود میں اضافہ ہوگا یا اسے موجودہ سطح پر برقرار رکھا جائے گا۔
اس وقت پاکستان کی پالیسی ریٹ 11.5 فیصد ہے۔ یہ شرح اپریل 2026 سے برقرار ہے اور 14 ستمبر 2026 کو ہونے والے گزشتہ اجلاس میں بھی کمیٹی نے اسے تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس بار صورتحال مختلف ہے کیونکہ مہنگائی مسلسل اسٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے اوپر چل رہی ہے اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل اور اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا دباؤ بھی بڑھ گیا ہے۔
مارکیٹ کی توقع کیا ہے؟
مارکیٹ کے ایک سروے کے مطابق 61 فیصد شرکا شرح سود میں اضافے کی توقع رکھتے ہیں جبکہ 39 فیصد کا خیال ہے کہ شرح کو برقرار رکھا جائے گا۔ اضافے کی توقع رکھنے والوں میں سے 54 فیصد کا کہنا ہے کہ شرح میں 50 بیسز پوائنٹس یعنی آدھا فیصد اضافہ ہوگا جس سے پالیسی ریٹ 12 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ صرف 7 فیصد شرکا ایک فیصد یعنی 100 بیسز پوائنٹس کے بڑے اضافے کی پیش گوئی کر رہے ہیں جس سے شرح 12.5 فیصد ہو جائے گی۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے حوالے سے بھی یہی بات سامنے آئی ہے کہ اسٹیٹ بینک 50 بیسز پوائنٹس اضافے کے ساتھ شرح سود 12 فیصد کر سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں سے پانچ ماہ میں مہنگائی دوہرے ہندسے میں رہی ہے جو ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔ اگست میں سالانہ مہنگائی جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی تھی جبکہ بنیادی مہنگائی 8.7 فیصد رہی۔ کاروباری طبقے اور صارفین کی مہنگائی سے متعلق توقعات بھی بڑھ رہی ہیں جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ قیمتوں کا دباؤ اجرتوں اور قیمتوں کے تعین کے ذریعے مستقل شکل اختیار کر سکتا ہے۔
مہنگائی کے اعداد کیا بتاتے ہیں؟
بزنس ریکارڈر کے اداریے کے مطابق مئی 2026 میں صارف قیمت اشاریہ 11.7 فیصد، جون میں 11.1 فیصد، جولائی میں 9.2 فیصد، اگست میں دوبارہ 11.1 فیصد اور ستمبر میں 10.3 فیصد رہا۔ بنیادی مہنگائی ستمبر میں 8.6 فیصد اور اگست میں 8.8 فیصد کے درمیان رہی۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ مہنگائی میں کمی کا رجحان مستحکم نہیں ہو سکا اور اسی لیے سخت مانیٹری پالیسی کی دلیل مضبوط ہوئی ہے۔
دوسری طرف کچھ دلائل شرح سود برقرار رکھنے کے حق میں بھی ہیں۔ روپیہ مجموعی طور پر مستحکم رہا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے پاس 16 اکتوبر 2026 تک 21.49 ارب ڈالر کے ذخائر تھے۔ معاشی سرگرمیوں میں بھی بہتری آئی ہے اور تیسری سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر نمو 2.8 فیصد رہی جبکہ دوسری سہ ماہی میں 0.6 فیصد سکڑاؤ تھا۔ اس سے یہ دلیل ملتی ہے کہ معیشت سخت پالیسی کو کچھ حد تک برداشت کر سکتی ہے۔
عام آدمی اور کاروبار پر کیا اثر پڑے گا؟
شرح سود میں اضافے کا براہ راست اثر قرضوں پر پڑتا ہے۔ بینکوں سے قرض مہنگا ہو جاتا ہے، کاروبار کی لاگت بڑھتی ہے اور گھریلو قرضوں کی قسطیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ دوسری طرف شرح سود بڑھانے کا مقصد مہنگائی کو قابو کرنا ہوتا ہے تاکہ قیمتوں میں اضافے کی رفتار کم ہو اور روپے پر دباؤ کم رہے۔ اگر شرح برقرار رہتی ہے تو کاروبار کو سستے قرض کی سہولت تو ملتی رہے گی لیکن مہنگائی کے بڑھنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔
برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب ہے اور اس کے باعث پاکستان کے درآمدی بل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ستمبر 2026 میں اشیا کی درآمدات 6.17 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو مارچ 2024 سے تنازع شروع ہونے تک کے ماہانہ اوسط 4.98 ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونی کھاتے اور مہنگائی دونوں پر نظر رکھنا اسٹیٹ بینک کے لیے ضروری ہو گیا ہے۔
فیصلہ کب سامنے آئے گا؟
مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد اسٹیٹ بینک اپنا مانیٹری پالیسی بیان جاری کرے گا جس میں فیصلے کی وجوہات بھی بتائی جائیں گی۔ گورنر اسٹیٹ بینک کی پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات بھی دیں گے۔ فیصلہ سامنے آنے کے بعد اسٹاک مارکیٹ، بینکوں اور کاروباری حلقوں کا ردعمل بھی دیکھا جائے گا۔
یاد رہے کہ ابھی تک یہ صرف مارکیٹ کی توقعات ہیں، حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی ہی کرے گی۔ اس لیے شام کو اعلان تک کسی بھی نتیجے کو حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: پٹرول 4 ماہ میں 26 فیصد مہنگا، عام آدمی کی جیب خالی https://niazitvnews.com/?p=1935 اور ورلڈ بینک کی بڑی وارننگ، مہنگائی 8.2 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ https://niazitvnews.com/?p=1348
ذرائع: 24 نیوز ایچ ڈی کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹ، بلومبرگ کی رپورٹ کے حوالے سے میٹس گلوبل اور دی اسٹینڈرڈ، اور بزنس ریکارڈر کے اداریے کے مطابق۔