شہباز شریف: مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششیں جاری

0

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے اپنا کردار پہلے کی طرح جاری رکھے گا۔ بدھ 4 نومبر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ خطے میں چیلنجز کے باوجود اسلام آباد امن کی کوششوں سے پیچھے نہیں ہٹا ہے۔ وزیراعظم نے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تیل کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے اقدامات پر بھی بات کی۔

تہران کے دو دورے اور مکہ دفاعی معاہدہ

وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ دو سے تین ہفتوں میں پاکستانی وفد نے دو بار تہران کا دورہ کیا ہے، جہاں بات چیت کا محور علاقائی کشیدگی میں کمی اور باہمی تعاون کا فروغ رہا۔ انہوں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کی جانے والی کوششوں کا بھی حوالہ دیا، جو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اگست میں طے پایا تھا اور جس کی رو سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ اس معاہدے کی ترکیہ کی پارلیمنٹ میں توثیق کی خبر ہماری اس رپورٹ میں پڑھیں: ترکیہ پارلیمنٹ: مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق آج۔

وزیراعظم نے یاد دلایا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار بھی ادا کیا ہے۔ جون میں پاکستان کی مدد سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس کا مقصد دشمنی روکنا اور وسیع تصفیے کی طرف مذاکرات کا خاکہ دینا تھا، تاہم بعد میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے سے 60 روزہ خاکہ بغیر کسی حتمی معاہدے کے ختم ہو گیا۔

تیل قیمتوں میں ریلیف اور کے پی کے لیے 160 ارب کا پیکج

کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ علاقائی عدم استحکام کے باعث عالمی تیل قیمتوں میں تیزی آئی ہے، جس سے ملکی ایندھن کی فراہمی پر بھی دباؤ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے جمعے کو پیٹرولیم قیمتوں میں 15 روپے اضافے کا منصوبہ بنایا تھا، مگر وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ریفائنریز سے بات چیت کے ذریعے یہ اضافی بوجھ ان کے غیر متوقع منافع سے پورا کرانے کا انتظام کیا، تاکہ عام شہریوں پر بوجھ نہ پڑے۔ ستمبر میں شروع کی گئی ایندھن سبسڈی اسکیم دسمبر کے آخر تک جاری رہے گی، جبکہ ایرانی سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے ایل پی جی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور کھلی مارکیٹ میں سلنڈر سرکاری نرخ سے تقریباً دگنی قیمت پر فروخت ہو رہے ہیں۔

وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے مجوزہ پیکج کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس میں ترقی، عوامی فلاح اور سیکیورٹی و انسداد دہشت گردی کی صلاحیت مضبوط کرنا شامل ہے — اس پیکج کی تفصیل ہماری اس رپورٹ میں ملاحظہ کریں: خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکج۔ خیبرپختونخوا میں اکتوبر سے گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ ہے، جب صدر آصف علی زرداری نے دہشت گردی اور گورننس کی بگڑتی صورتحال کے باعث پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو معطل کیا تھا۔

دہشت گردی کے خاتمے کا عزم

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت مسلح افواج، صوبائی انتظامیہ اور وفاقی حکومت کی مربوط کوششوں سے خیبرپختونخوا سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ کابینہ اجلاس میں توانائی کی صورتحال پر بھی غور ہوا، جس میں موسم سرما میں ایل پی جی کی بڑھتی طلب پوری کرنے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے خریداری کا اشارہ بھی دیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ خود توانائی کے نظام کی ازسرنو تشکیل کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

ذرائع: دی پرنٹ (پی ٹی آئی)، خبر والے — 4 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *