شہزاد بھٹی کون ہیں؟ — انڈیا کے سنگین الزامات، 14 ریاستوں میں کارروائی کا دعویٰ اور پاکستان کی سخت تردید (کالم)
سوشل میڈیا پر انڈیپینڈنٹ اردو کی ایک ویڈیو میں سوال اٹھایا گیا ہے — شہزاد بھٹی کون ہیں؟ یہ نام اگست 2026 میں اس وقت خبروں میں آیا جب انڈیا نے دعویٰ کیا کہ اس نے پاکستان میں موجود ایک مبینہ گینگسٹر شہزاد بھٹی سے منسلک نیٹ ورک کے خلاف ملک گیر کارروائی کی ہے۔ پاکستان نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔ آئیے اس پورے معاملے کی تفصیل دیکھتے ہیں — ایک فریق کے دعوے اور دوسرے فریق کا جواب، دونوں آپ کے سامنے۔
انڈیا کا دعویٰ کیا ہے؟
انڈین حکام کے مطابق یومِ آزادی (15 اگست) سے قبل ممکنہ تخریبی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کو روکنے کے لیے 14 ریاستوں میں مربوط کارروائیاں کی گئیں، جن میں 253 افراد کو حراست میں لیا گیا، 200 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں اور 80 سے زیادہ مقدمات درج کیے گئے۔ انڈین وزیر داخلہ امت شاہ نے 17 اگست 2026 کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ حکومت نے شہزاد بھٹی نیٹ ورک کو نشانہ بنایا اور 200 سے زائد مبینہ آپریٹو گرفتار کر کے ممکنہ حملوں کے منصوبے ناکام بنا دیے۔
انڈین دعوے کے مطابق کارروائیوں میں آئی ای ڈیز، پستول، کارتوس، دستی بم اور نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے سی سی ٹی وی کیمرے بھی برآمد ہوئے۔ نئی دہلی کا مزید کہنا ہے کہ بعض دستی بموں پر پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے نشانات موجود تھے، جسے انڈین حکام سرحد پار روابط کا ثبوت قرار دے رہے ہیں۔ گرفتاریاں یو اے پی اے سمیت مختلف قوانین کے تحت کی گئیں۔
شہزاد بھٹی کون ہیں؟
انڈین سکیورٹی اداروں کے مطابق شہزاد بھٹی پاکستان میں موجود ایک مبینہ گینگسٹر ہے جو بعد ازاں دہشت گردی کے مبینہ ہینڈلر کے طور پر سامنے آیا۔ انڈین حکام کا الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا اور انکرپٹڈ کمیونیکیشن پلیٹ فارمز کے ذریعے انڈین نوجوانوں کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کرتا اور انہیں مبینہ طور پر جرائم، جاسوسی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتا رہا۔
انڈین میڈیا پر سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق بھٹی کی عمر تقریباً 45 سال ہے اور وہ خود کو کاروباری شخصیت، سوشل میڈیا انفلوئنسر اور مذہبی امور پر تبصرہ کرنے والے شخص کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہ آن لائن دنیا میں اپنے ’333‘ نامی گروپ یا برانڈ کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔ 2018 کے بعد ٹک ٹاک کے ذریعے ان کی سوشل میڈیا مقبولیت میں اضافہ ہوا، اور انہوں نے انڈین جیل میں قید گینگسٹر لارنس بشنوئی سے دوستی کا دعویٰ بھی عوامی طور پر کیا۔ انڈین میڈیا کے مطابق بھٹی پہلی مرتبہ 2013 میں پاکستانی پولیس کی توجہ میں آئے۔ تاہم بھٹی نے عوامی سطح پر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔
بھارتی تحقیقات میں کیا سامنے آیا؟
انڈین تحقیقاتی ادارے شہزاد بھٹی کا نام شمالی انڈیا میں ہونے والے متعدد حملوں سے جوڑتے ہیں، جن میں جالندھر سے تعلق رکھنے والے یوٹیوبر راجر سندھو کی رہائش گاہ پر مبینہ گرینیڈ حملہ (مارچ 2024)، امبالہ کے بالدیونگر پولیس سٹیشن کے قریب آئی ای ڈی کار بم دھماکہ اور ہماچل پردیش کے نالہ گڑھ میں پولیس سٹیشن پر مبینہ گرینیڈ حملہ شامل ہیں۔ بعد ازاں انڈین تفتیش کاروں نے بھٹی کے روابط ذیشان اختر سے جوڑنے کا دعویٰ کیا، جسے بشنوئی کا مبینہ ساتھی قرار دیا جاتا ہے اور جس پر 2024 میں مہاراشٹر کے سابق وزیر بابا صدیقی کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
انڈین تحقیقاتی اداروں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مبینہ نیٹ ورک سوشل میڈیا کے ذریعے مایوس نوجوانوں کو پہلے معمولی کاموں اور مراعات سے قریب لاتا اور پھر انہیں مبینہ طور پر سنگین سرگرمیوں میں شامل کرتا تھا۔
پاکستان کا جواب کیا ہے؟
اسلام آباد نے انڈیا کے الزامات کو واضح اور سخت الفاظ میں مسترد کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان انڈیا کے وزیر داخلہ کی جانب سے بعض گرفتاریوں کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش پر مبنی الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے، اور یہ کہ قابل اعتماد شواہد کے بغیر یہ دعوے قبول نہیں کیے جا سکتے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ نئی دہلی اپنی داخلی سکیورٹی اور سیاسی مشکلات کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے اور عوام کی توجہ اندرونی معاملات سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ترجمان نے اسے پاکستان کے خلاف بدنیتی پر مبنی مہم کا ایک اور مظہر قرار دیا۔ پاکستان نے ماضی میں بھی انڈیا پر پاکستان میں دہشت گردی میں مداخلت کے الزامات عائد کیے ہیں اور اس ضمن میں انڈین بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن یادیو کے معاملے کو اپنی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔
بعد کی پیش رفت — پابندی اور انٹرپول نوٹس
ستمبر 2026 میں انڈین وزارت داخلہ نے شہزاد بھٹی نیٹ ورک کو یو اے پی اے کے تحت ممنوعہ دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا۔ انڈین حکام کے مطابق سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) انٹرپول سے ان کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس کے اجرا کے لیے رابطہ کرے گی۔ انڈین انٹیلی جنس حکام کا دعویٰ ہے کہ بھٹی حالیہ عرصے میں دبئی اور برازیل سے سرگرم رہے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ تمام دعوے فی الحال انڈین حکام کا مؤقف ہیں — مبصرین کے مطابق ان الزامات کا حتمی تعین متعلقہ قانونی اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہی ہوگا۔
ذرائع: انڈیپینڈنٹ اردو، دی سٹیٹس مین (آئی اے این ایس)، ٹک ٹاک: indyurdu — تصویر: انڈین ایکسپریس (فائل فوٹو)