طلال چوہدری کا فضل الرحمان پر جوابی وار — “کے پی کا سیٹ اپ اتحاد سازی یا اقتدار کی تقسیم کے لیے نہیں بنا”
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کا موجودہ صوبائی سیٹ اپ اتحاد سازی یا اقتدار کی تقسیم کے لیے نہیں بنایا گیا۔ ان کا یہ بیان جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ان ریمارکس کا جواب ہے جن میں انہوں نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ پر شدید تنقید کی تھی۔
طلال چوہدری نے اپنے بیان میں کیا کہا؟
ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں طلال چوہدری نے کہا کہ صوبائی انتظام کسی کے ذاتی مفاد یا سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے نہیں بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں مولانا صاحب سے ایسی توقع نہیں تھی، اور وہ کوئی ایسی بات نہیں کہنا چاہتے جو جے یو آئی (ف) کے سربراہ کی توہین کا باعث بنے۔
فضل الرحمان کے 1971 کے واقعات کے حوالے پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیرِ مملکت نے کہا کہ یہ تاریخ کا ایک تکلیف دہ باب ہے جسے یاد کرنا لوگوں کے لیے پریشان کن ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مولانا نے 2024 کے عام انتخابات کے بعد 1971 کا ذکر کیوں کیا — کیا یہ واقعات انتخابات کے بعد پیش آئے تھے یا یہ کہیں پرانی تاریخ کا حصہ ہیں؟ ان کے بقول بعض ریمارکس سخت تھے اور مولانا کے مرتبے کے شایانِ شان نہیں۔
محسن نقوی اور گورنر کنڈی کی بھی سخت تنقید
طلال چوہدری کے بیان سے قبل وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی — بغیر نام لیے — کہہ چکے تھے کہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ خیبر پختونخوا کی گورنری نہ ملنے اور گورنر راج کے سیٹ اپ میں کوئی کردار نہ ملنے پر شدید ناراض ہیں۔ نقوی کے بقول مذکورہ رہنما دہائیوں سے سیاست میں رہنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت پر انحصار کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں فضل الرحمان کے ریمارکس پر گہری مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایک سینئر سیاستدان سے ایسی توقع نہیں تھی۔ گورنر نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق مولانا کے مؤقف سے بھی اختلاف کیا اور ان کے اس دعوے کا حوالہ دیا کہ وہ اپنے علاقے میں آزادانہ نقل و حرکت نہیں کر سکتے اور صوبائی حکومت امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے۔
پس منظر: فضل الرحمان نے کیا کہا تھا؟
مولانا فضل الرحمان نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ انہوں نے اداروں پر نہیں بلکہ پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اپنے علاقے میں آزادانہ نقل و حرکت نہیں کر سکتے اور صوبائی حکومت امن و امان کی صورتحال سنبھالنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے ان ریمارکس پر مریم نواز اور محسن نقوی نے بھی جوابی تنقید کی تھی۔ واضح رہے کہ یہ تمام دعوے متعلقہ شخصیات کے بیانات کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں۔
اب آگے کیا ہوگا؟
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی برقرار ہے اور پشاور ہائی کورٹ 20 اکتوبر کو ایمرجنسی کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست کی سماعت کرے گی۔ وفاقی حکومت اور جے یو آئی (ف) کے درمیان لفظی جنگ میں تیزی آ رہی ہے — دیکھنا یہ ہے کہ آیا مولانا اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہیں یا صورتحال میں کوئی نرمی آتی ہے۔
ذرائع: جیو نیوز، دی نیوز (17 اکتوبر 2026)