عمران خان اسلام آباد ماڈل جیل منتقل ہوں گے؟ نقوی کا اشارہ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اشارہ دیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان بھی ان 1500 قیدیوں میں شامل ہو سکتے ہیں جنہیں اسلام آباد کی نئی ماڈل جیل منتقل کیا جائے گا۔ نقوی نے منگل کو جیل کمپلیکس کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف آنے والے دنوں میں اس طویل عرصے سے زیر التواء منصوبے کا افتتاح کریں گے، جس کے بعد قیدیوں کی منتقلی کا عمل شروع ہو جائے گا۔
17 سال سے زیر التواء منصوبہ مکمل
اسلام آباد ماڈل جیل کا منصوبہ 2009 میں شروع ہوا تھا جبکہ تعمیر کا آغاز 2016 میں ہوا۔ نقوی نے بتایا کہ 2024 میں جب انہوں نے پہلی بار اس جگہ کا دورہ کیا تو صرف 40 سے 50 فیصد کام مکمل تھا اور منصوبہ تقریباً ترک کر دیا گیا تھا۔ اب یہ منصوبہ مکمل ہو چکا ہے اور افتتاح کے بعد کام شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ پہلے مرحلے میں تین بیرکس، 35 بستروں کا چھوٹا اسپتال، مسجد اور کچن شامل ہیں، جبکہ مجموعی طور پر جیل میں 3000 سے 4000 قیدیوں کی گنجائش ہو گی۔
نقوی نے کیا کہا؟
صحافیوں کے اس سوال پر کہ کیا عمران خان بھی منتقل ہوں گے، نقوی نے کہا: “میرا مخصوص جواب یہ ہے کہ اسلام آباد کا جو بھی قیدی ہو گا، اسے یہاں منتقل کر دیا جائے گا۔” انہوں نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ کسی ایک فرد کے لیے نہیں بلکہ اسلام آباد کے تمام قیدیوں کے لیے ہے۔ جیل ذرائع کے مطابق عمران خان کی منتقلی 20 سے 30 نومبر کے درمیان ہو سکتی ہے، تاہم یہ تاریخ ابھی حتمی نہیں ہے۔ عمران خان اگست 2023 سے قید ہیں اور اس وقت اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ 9 مئی 2023 کے احتجاج سے متعلق انسداد دہشت گردی کے مقدمات بھی زیر التواء ہیں۔
پی ٹی آئی نے 28ویں ترمیم کی حمایت مشروط کر دی
دوسری جانب پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے منگل کو آٹھ گھنٹے طویل اجلاس کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ وہ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت صرف اس صورت میں کرے گی جب بانی عمران خان کو فوری رہا کیا جائے۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ پارٹی نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی متفقہ طور پر مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے انہیں اپنے وزیر اعلیٰ اور ارکان اسمبلی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں، اور عمران خان سے ملاقاتوں پر 375 دن سے پابندی عائد ہے۔
صورتحال کا پس منظر
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا معاملہ پہلے ہی سیاسی کشیدگی کا باعث بنا ہوا ہے، اور اب ماڈل جیل کی منتقلی کا اشارہ پی ٹی آئی کے لیے ایک نیا موضوع بن گیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ نئی جیل ایک ماڈل سہولت ہو گی جس میں سخت انتظامی نگرانی اور قیدیوں کی بہتر دیکھ بھال کی جائے گی، جبکہ پی ٹی آئی اسے اپنے بانی کی رہائی کے مطالبے سے جوڑ رہی ہے۔ آئندہ دنوں میں وزیر اعظم کے افتتاح کے بعد منتقلی کے شیڈول کے بارے میں مزید وضاحت متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: حماد اظہر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل اور عمران کی بہنوں کی نظر بندی 30 دن بڑھ گئی۔
ماخذ: پاکستان ٹوڈے، ایم ایم نیوز، اردو پوائنٹ، سینٹر لائن