لاہور میں محمد سرور انتقال کر گئے — پی ایم ایم ایل پنجاب صدر، امریکہ کے نامزد کردہ “گلوبل ٹیررسٹ”
لاہور میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ (پی ایم ایم ایل) کے پنجاب صدر محمد سرور انتقال کر گئے۔ پارٹی کے ترجمان کے مطابق وہ اتوار کو گھر سے مسجد نماز کے لیے جا رہے تھے کہ راستے میں گر کر چل بسے۔
موت کیسے ہوئی؟
پی ایم ایم ایل کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں موت کی حتمی وجہ واضح نہیں کی گئی، تاہم بیان میں کہا گیا ہے کہ محمد سرور گھر سے مسجد نماز کی ادائیگی کے لیے نکلے تھے کہ راستے میں بے ہوش ہو کر گرے اور انتقال کر گئے۔ دوسری جانب 24 نیوز ایچ ڈی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق ان کی موت سیڑھیوں سے گرنے کے بعد سر میں لگنے والی چوٹ کے باعث ہوئی۔ نماز جنازہ اتوار کی شب لاہور کے علاقے چوبورجی میں جماعت الدعوۃ کے ہیڈکوارٹر جامعہ القادسیہ میں ادا کی گئی۔ پارٹی رہنماؤں خالد مسعود سندھو، سیف اللہ قصوری، حافظ طلحہ سعید، یعقوب شیخ، خالد نائیک گجر اور مزمل اقبال ہاشمی نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ مزمل اقبال ہاشمی نے کہا کہ محمد سرور کی موت سے پارٹی ایک بہادر اور بے خوف رہنما سے محروم ہو گئی۔
محمد سرور کون تھے؟
محمد سرور پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے پنجاب صدر تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ایم ایم ایل حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ کا سیاسی شاخ سمجھی جاتی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کے کنٹرول (او ایف اے سی) نے 2016 میں محمد سرور اور لشکر طیبہ کے ایک اور سینئر رہنما شاہد محمود کو “اسپیشلی ڈیزائنیٹڈ گلوبل ٹیررسٹ” قرار دیا تھا۔ او ایف اے سی کے اس وقت کے بیان کے مطابق یہ کارروائی لشکر طیبہ کے فنڈ ریزنگ اور سپورٹ نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے کی گئی تھی، اور دونوں افراد امریکی دائرہ اختیار میں آنے والی ان کی تمام جائیدادوں اور مفادات کو بلاک کر دیا گیا تھا۔ ریکارڈ کے مطابق سرور کم از کم 2015 سے لشکر طیبہ کے لاہور چیف کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور گروپ کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے اور منتقل کرنے میں ملوث بتائے گئے تھے۔
پس منظر
او ایف اے سی کے 2016 کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ سرور اور محمود لشکر طیبہ کے آپریشنز کی حمایت کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے اور منتقل کرنے کے ذمہ دار تھے، اور یہ کارروائی نہ صرف ان کی سرگرمیوں کو بے نقاب کرنے بلکہ دہشت گرد گروپ کے مالی نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے کی گئی۔ حافظ سعید 2019 سے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے متعدد مقدمات میں سزا کاٹ رہے ہیں۔
ذرائع: این ڈی ٹی وی، دی ہندو، سی این بی سی ٹی وی 18، ڈیکن ہیرالڈ، ای ٹی وی بھارت (پی ٹی آئی) — تمام دعوے متعلقہ ذرائع سے منسوب۔