محسن نقوی کو بیرسٹر گوہر کا تفصیلات سے جواب، اندر کی بات بتا دی

0
gohar-na-frame

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیانات کا تفصیل سے جواب دیتے ہوئے حکومت کے ساتھ ہونے والی مذاکراتی میٹنگ کی “اندر کی بات” ایوان میں بتا دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے تھے یہ باتیں باہر نہ آئیں اور پردے میں رہیں، لیکن جب حکومت کی طرف سے باتیں باہر لائی گئیں تو اب انہیں بھی حق حاصل ہے کہ قوم کو بتائیں کہ اندر کیا ہوا تھا۔

بیرسٹر گوہر نے 14 اکتوبر 2026 کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اس میٹنگ کا مکمل نوٹ موجود ہے۔ ان کے مطابق میٹنگ میں ان کے ہمراہ نوید قمر بھی موجود تھے جبکہ حکومت کے اہم ارکان بھی شریک تھے۔ انہوں نے بتایا کہ میٹنگ کا آغاز وزیر داخلہ محسن نقوی نے کیا، اس کے بعد ان کی طرف سے علامہ راجہ ناصر عباس نے بات کی اور پھر انہوں نے خود حکومت کے سامنے اپنا مؤقف رکھا۔

“ٹیبل پر بیٹھنا ہماری غلطی تھی، آپ نے مایوس کیا”

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہوں نے میٹنگ کے آغاز میں ہی حکومت کو کہا کہ “آج اس ٹیبل پر بیٹھ کر ہم سے غلطی ہو گئی ہے، آپ نے تو ہمیں مایوس کیا ہے، آپ نے ڈس اپوائنٹ کیا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ دونوں طرف سے غلطی ہوئی — حکومت کو چاہیے تھا کہ ان سے ایجنڈا مانگتی اور انہیں چاہیے تھا کہ حکومت سے ایجنڈا مانگتے۔

“دہشت گردی کا کنسیپٹ کہاں سے آیا؟”

پی ٹی آئی چیئرمین نے حکومت سے سوال کیا کہ “دہشت گردی کا کنسیپٹ یہاں کہاں سے آیا؟ ہم تو لانگ مارچ کے سلسلے میں آپ سے بیٹھے تھے۔” ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت کے طور پر حکومت سے مطالبات کر رہی ہے، جبکہ دہشت گردی کا معاملہ “دو حکومتوں کے درمیان” یعنی صوبائی اور قومی حکومت کے درمیان ہے، اسے ایپکس کمیٹی یا صوبائی کمیٹی میں حل کیا جائے۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ 2 اکتوبر 2026 سے پہلے حکومت ایک جگہ بتائے جہاں اس نے دہشت گردی کا ذکر کیا ہو۔

“غیر اعلانیہ گورنر راج پہلے سے تھا”

بیرسٹر گوہر کا دعویٰ تھا کہ خیبر پختونخوا میں غیر اعلانیہ گورنر راج پہلے سے نافذ تھا اور 11 اکتوبر کو صرف رسمی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں حکومت کی رٹ پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔

مہاجر کیمپوں اور فنڈز کے اعداد و شمار

اپنے خطاب میں بیرسٹر گوہر نے حکومت کے اس دعوے کو بھی چیلنج کیا کہ خیبر پختونخوا میں 43 مہاجر کیمپ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جا کر معلوم کر لیا جائے، اس وقت ایک بھی مہاجر کیمپ موجود نہیں، سب خالی پڑے ہیں اور تمام لوگ جا چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پانچ اضلاع کے لیے صوبائی حکومت نے 21 ارب روپے مختص کیے اور 9 ارب روپے جاری بھی کر دیے، جبکہ وفاقی حکومت نے 10 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا مگر “آج تک ایک روپیہ نہیں دیا۔” ان کے مطابق حکومت نے اس بیان کی تردید بھی نہیں کی۔

پولیس کے بجٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پولیس کا بجٹ پہلے 123 ارب روپے تھا جسے 41 فیصد اضافے کے ساتھ 173 ارب روپے کر دیا گیا ہے، اور پولیس کے لیے 43 ارب روپے کی خریداری بھی کی گئی۔ ان کے دعوے کے مطابق خیبر پختونخوا اپنے کل بجٹ کا 9 فیصد پولیس پر خرچ کر رہا ہے جبکہ پنجاب 3.6 فیصد، سندھ 5.5 فیصد اور بلوچستان 8 فیصد خرچ کر رہا ہے۔

وزیراعلیٰ کہاں ہے؟

بیرسٹر گوہر نے ایوان میں پرزور مطالبہ کیا کہ بتایا جائے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو کہاں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی وزیراعلیٰ ہیں اور چار کروڑ عوام کے نمائندے ہیں، انہیں فی الفور عوام کے سامنے لایا جائے۔ انہوں نے صوبائی صدر جنید اکبر، پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک اور ڈاکٹر امجد سمیت گرفتار ارکان کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ تمام غیر آئینی اقدامات کو ریورس کیا جائے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کی عوام سے ان کے مینڈیٹ کو نقصان پہنچانے پر غیر مشروط معافی مانگے۔

مذاکرات اور لانگ مارچ

بلاول بھٹو زرداری کی مذاکرات والی بات کو انہوں نے خوش آئند قرار دیا، تاہم سوال اٹھایا کہ مذاکرات کی میز سے “اٹھو بھائی، اٹھو، بس ٹائم پورا ہو گیا” کس نے کہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید بلاول کو صحیح بریف نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے منتخب حکومت ختم کی، وزرا اور ایڈوکیٹ جنرل کو ہٹایا، ڈی سیز اور ڈی پی اوز تبدیل کیے اور ان کے کارکنوں کو گرفتار کیا۔ ان کے مطابق بونیر سے تعلق رکھنے والے ان کے تین ایم پی ایز پر صرف سرکاری گاڑی وقت پر واپس نہ کرنے پر مقدمات بنائے گئے اور نوجوان کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔

بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ ان کا لانگ مارچ برقرار ہے اور مطالبات منوانے تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے لانگ مارچ کا ایسا روٹ چنا تھا کہ کسی سرکاری عمارت کے پاس سے گزر نہ ہو۔ ان کے مطالبات میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات (ان کی آخری ملاقات 16 اکتوبر 2025 کو ہوئی تھی)، اہلیہ کے علاج، سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد اور یونیورسٹی کا قیام شامل ہیں۔

پس منظر

واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ میں 25 نومبر کے دھرنے سے متعلق انکشافات کیے تھے، جن میں بانی پی ٹی آئی کے جیل سے ویڈیو پیغام کی کوشش کا ذکر بھی شامل تھا۔ بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ وہ محسن نقوی کے بیان کا تفصیلی جواب دیں گے اور اسمبلی میں بتائیں گے کہ اندر کیا ہوا تھا۔ (ذرائع: ایکسپریس نیوز، اردو پوائنٹ، ڈان)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *