ووسٹاک اسٹیشن کی وائرل ویڈیو، دنیا حیران

0

روس کے انٹارکٹیکا میں واقع ووسٹاک اسٹیشن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ ویڈیو میں برف اور یخ بستہ ہواؤں کے درمیان کھڑا ایک جدید، بلند و بالا تحقیقی کمپلیکس دکھائی دیتا ہے جسے دیکھنے والوں نے سائنس فکشن فلم کے خلائی جہاز یا ویڈیو گیم کے قلعے سے تشبیہ دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو محض دو دن میں دس لاکھ سے زیادہ بار دیکھی گئی اور پھر انسٹاگرام اور فیس بک پر بھی پھیل گئی۔

ویڈیو میں اسٹیشن کی بیرونی دیواریں نیلے رنگ اور روسی پرچم کے رنگوں میں رنگی دکھائی دیتی ہیں، جو تقریباً مکمل طور پر برف اور کہر میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ صارفین نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ یہ جگہ سیدھی کسی سائنس فکشن گیم سے نکلی ہوئی لگتی ہے، اور یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ وہاں منفی 89 ڈگری کی سردی میں کام کیسے کیا جاتا ہے۔

ووسٹاک اسٹیشن کہاں ہے؟

ووسٹاک اسٹیشن روس کا انٹارکٹیکا کے اندرونی حصے میں واقع واحد فعال تحقیقی اسٹیشن ہے۔ یہ سطح سمندر سے تقریباً 3,500 میٹر کی بلندی پر اور ساحل سے 1,400 سے 1,500 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ علاقہ زمین کے مشہور سرد ترین مقام کے طور پر جانا جاتا ہے۔

یہ اسٹیشن 16 دسمبر 1957 کو قائم کیا گیا تھا، جب سوویت انٹارکٹک مہم کے دوران اس جگہ پر ایک بیس بنایا گیا۔ اس وقت سے یہ اسٹیشن قطبی تحقیق کا ایک اہم مرکز چلا آ رہا ہے، جہاں سائنس دان برف، آب و ہوا اور زمین کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں۔

دنیا کا سرد ترین ریکارڈ

ووسٹاک اسٹیشن کے پاس دنیا میں براہ راست ناپا گیا سب سے کم درجہ حرارت کا عالمی ریکارڈ ہے۔ 21 جولائی 1983 کو یہاں ہوا کا درجہ حرارت منفی 89.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا، جو آج تک زمین پر ناپا گیا سرد ترین درجہ حرارت ہے۔

اتنی شدید سردی میں ہوا میں آکسیجن کی مقدار بھی کم ہوتی ہے، کیونکہ اسٹیشن بلند مقام پر واقع ہے۔ یہاں کام کرنے والے سائنس دانوں کو نہ صرف سردی بلکہ خشک ہوا، تیز ہواؤں اور مہینوں تک جاری رہنے والی قطبی رات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وائرل ہونے کی وجہ کیا بنی؟

ووسٹاک اسٹیشن کی نئی جدید عمارتیں روایتی تحقیقی اڈوں سے بہت مختلف دکھائی دیتی ہیں۔ بلند ستونوں پر کھڑی یہ عمارتیں برف کے جمع ہونے سے بچنے کے لیے اس طرح بنائی گئی ہیں کہ ہوا ان کے نیچے سے گزر کر برف کو اڑا لے جاتی ہے۔ یہی ڈیزائن انہیں مستقبل کی عمارتوں جیسا دکھاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر صارفین نے اس ویڈیو کو خلائی فلموں کے مناظر سے ملایا ہے۔ کچھ نے اسے خفیہ فوجی تنصیب قرار دیا، تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک کھلا سائنسی تحقیقی مرکز ہے جہاں آب و ہوا، برفانی تہوں اور زیر زمین جھیلوں پر تحقیق کی جاتی ہے۔

جھیل ووسٹاک کا راز

ووسٹاک اسٹیشن کے نیچے تقریباً 4 کلومیٹر موٹی برف کے نیچے جھیل ووسٹاک موجود ہے، جو انٹارکٹیکا کی سب سے بڑی زیر زمین جھیلوں میں سے ایک ہے۔ یہ جھیل لاکھوں سال سے سورج کی روشنی سے کٹی ہوئی ہے، اور سائنس دان اسے اس لیے اہم سمجھتے ہیں کہ یہاں کی تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ برفیلے سیاروں اور چاندوں، جیسے یوروپا اور انسیلاڈس، پر زندگی کیسے موجود ہو سکتی ہے۔

2012 میں سائنس دانوں نے کئی دہائیوں کی کوششوں کے بعد پہلی بار اس جھیل تک ڈرلنگ کے ذریعے رسائی حاصل کی تھی۔ یہ کارنامہ قطبی تحقیق کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔

سائنس فکشن یا حقیقت؟

ووسٹاک اسٹیشن کی وائرل ویڈیو نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ حقیقی سائنسی مقامات بعض اوقات فلموں کے مناظر سے بھی زیادہ حیران کن ہوتے ہیں۔ زمین کے سرد ترین مقام پر انسانوں کی موجودگی اور مسلسل تحقیق خود ایک غیر معمولی کہانی ہے، جو اب سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچ رہی ہے۔

مزید پڑھیں: ہیومن رائٹس واچ ریو رپورٹ: https://niazitvnews.com/?p=2506 اور اسپین ٹرین حادثہ: https://niazitvnews.com/?p=2459

ماخذ: ڈسکلوزر نیوز، نیٹ 25 اور اسٹرینج ساؤنڈز، اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *