پاکستان میں بچوں میں سیسے کا زہر: یونیسیف کی تحقیق میں ہوشربا انکشافات، 4 کروڑ 70 لاکھ بچے متاثر ہونے کا خدشہ

0
Pakistan childhood lead poisoning UNICEF study

یونیسیف اور حکومت پاکستان کی مشترکہ تحقیق “Ending Childhood Lead Poisoning: Evidence for Policy Action” میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق سات بڑے شہروں کے زیادہ خطرے والے علاقوں میں 12 سے 36 ماہ کی عمر کے دس میں سے چار بچوں کے خون میں سیسے (لیڈ) کی مقدار عالمی ادارہ صحت کی محفوظ حد سے زیادہ پائی گئی۔

تحقیق میں کیا سامنے آیا

تحقیق میں کراچی، لاہور، پشاور، راولپنڈی، اسلام آباد، کوئٹہ اور ہری پور سمیت 21 مقامات پر 2,175 بچوں کے خون کے نمونے لیے گئے۔ قومی اوسط 3.12 مائیکروگرام فی ڈیسی لیٹر نکلی، جبکہ ایک بچے میں 107.63 کی ریکارڈ سطح پائی گئی جو طبی لٹریچر میں رپورٹ ہونے والی بلند ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔ ہٹڑ کے صنعتی علاقے میں ٹیسٹ کیے گئے 88 فیصد بچوں میں سیسے کی بلند سطح پائی گئی جبکہ قریبی اسلام آباد میں یہ شرح صرف 1 فیصد تھی۔

4 کروڑ 70 لاکھ بچے متاثر

یونیسیف کا تخمینہ ہے کہ پاکستان میں 4 کروڑ 70 لاکھ بچوں کے خون میں سیسے کی مقدار عالمی ادارہ صحت کی حد سے زیادہ ہے، اور عالمی ماڈلنگ کے مطابق اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے — ممکنہ طور پر دس میں سے آٹھ بچے متاثر ہیں۔ ادارے کے مطابق ذہنی صلاحیتوں کے نقصان کی معاشی قیمت سالانہ جی ڈی پی کا 6 سے 8 فیصد یعنی تقریباً 25 سے 35 ارب ڈالر ہے۔

سیسہ کہاں سے آتا ہے

تحقیق کے مطابق پاکستان میں لیڈ بیٹری بنانے والی فیکٹریاں اور پینٹ فیکٹریاں سیسے کے بڑے ذرائع ہیں، جبکہ لیڈ بیٹریوں کی غیر رسمی ری سائیکلنگ زہر آلودگی کا بنیادی راستہ ہے۔ پینٹ انڈسٹری کے 40 فیصد نمونے پاکستان کی 100 پی پی ایم کی قانونی حد سے تجاوز کر گئے، ایک نمونے میں 97,000 پی پی ایم تک سیسہ پایا گیا۔

بچوں پر اثرات اور قومی ایکشن پلان

تحقیق کے مطابق ٹیسٹ کیے گئے تقریباً 40 فیصد بچے قد کے نہ بڑھنے (اسٹنٹنگ) کا شکار تھے اور 55.7 فیصد میں خون کی کمی پائی گئی۔ اس تحقیق کے نتیجے میں بچوں میں سیسے کے زہر پر پاکستان کا پہلا ملٹی سیکٹرل نیشنل ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے جسے وفاقی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز کی حمایت حاصل ہے۔

ذرائع: ہیلتھ پالیسی واچ، یونیسیف۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *