پشاور میں 7 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ — کل تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے، بی آر ٹی بھی چلے گی

0
پشاور — کنٹینرز سے بند شاہراہ اور سکیورٹی صورتحال

پشاور: ضلعی انتظامیہ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پشاور میں 7 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت جلسے، جلوس، ریلیاں، دھرنے اور پانچ یا زائد افراد کے ہر اجتماع پر پابندی ہوگی۔ اسی دوران ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا ہے کہ منگل کو پشاور کے تمام تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے اور شہری جعلی نوٹیفکیشنز اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔

نوٹیفکیشن میں کیا کیا شامل ہے؟

ڈپٹی کمشنر پشاور کے 12 اکتوبر کے نوٹیفکیشن کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس اداروں نے حساس تنصیبات اور اہم سڑکوں کے آس پاس سیکیورٹی خطرے کی اطلاع دی تھی۔ حکم کے تحت اسلحے کی نمائش، کانٹے دار اشیا، بال بیئرنگ، ڈنڈے اور پیٹرول بم ساتھ رکھنے پر بھی پابندی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت کارروائی ہوگی۔ پابندی فوری نافذ العمل ہے اور 7 روز تک برقرار رہے گی، جب تک پہلے ختم یا تبدیل نہ کی جائے۔

اسکول کھلے، بی آر ٹی بحال — شہریوں کے لیے اہم اطلاع

ڈی سی پشاور کے بیان کے مطابق منگل کو صوبائی دارالحکومت کے تمام تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے۔ پیر کو گورنر راج کے بعد سڑکوں کی بندش کی وجہ سے ادارے بند رہے تھے۔ دوسری جانب ٹرانس پشاور نے اعلان کیا ہے کہ 13 اکتوبر (منگل) سے بی آر ٹی سروس تمام روٹس پر معمول کے مطابق فراہم کی جائے گی۔

شہر کی سڑکوں کی صورتحال

ڈان کے زمینی جائزے کے مطابق پشاور چھاؤنی کے تمام داخلی و خارجی راستے بند ہیں اور خیبر روڈ پر آمد و رفت روک کر ٹریفک متبادل راستوں کی طرف موڑا گیا ہے۔ یونیورسٹی روڈ تہکال کے قریب اور جی ٹی روڈ کا پیر زکوڑی والا داخلی راستہ بھی بند ہے، جبکہ ضلع خیبر، کوہاٹ اور نوشہرہ کی طرف جانے والے راستے کھلے ہیں۔ کوہاٹ روڈ، چارسدہ روڈ اور جی ٹی روڈ پر ٹریفک عمومی طور پر رواں ہے۔

باڑہ میں احتجاج، شانگلہ میں بھی دفعہ 144

ضلع خیبر کے باڑہ بازار میں پیر کی صبح پی ٹی آئی کارکنوں نے گورنر راج کے خلاف مظاہرہ کیا، جسے پولیس نے کارروائی کر کے منتشر کر دیا؛ ڈی پی او کے مطابق ہوائی فائرنگ کے بعد مظاہرین منتشر ہوئے۔ ادھر ضلع شانگلہ میں بھی دفعہ 144 نافذ کر کے اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی ہے اور ڈی پی او شانگلہ کے مطابق دو درجن سے زائد پی ٹی آئی کارکن زیر حراست ہیں اور چھاپے جاری ہیں۔

پس منظر: یہ پابندیاں 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد جاری سکیورٹی اقدامات کا تسلسل ہیں، جبکہ اپوزیشن نے منگل سے ضلعی سطح پر پرامن جمہوری جدوجہد شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

ماخذ: Dawn، 24 News HD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *