پنجاب: مہنگے داموں پر 414 گرفتار، 113 مقدمات درج
پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں مہنگے داموں فروخت کرنے والوں کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران قیمت کنٹرول مجسٹریٹس نے چار لاکھ اکاون ہزار سے زائد معائنے کیے، 414 افراد کو گرفتار کیا، 113 مقدمات درج کیے اور ایک کروڑ 29 لاکھ 50 ہزار روپے سے زائد جرمانے عائد کیے۔
ساڑھے چار لاکھ معائنے، بیس ہزار سے زائد مہنگے داموں کی شکایات
سیکریٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈاکٹر کرن خورشید کے مطابق گزشتہ ہفتے صوبے بھر میں 451,000 سے زائد معائنے کیے گئے۔ اس دوران مہنگے داموں فروخت کی 20,243 شکایات سامنے آئیں، جبکہ 1,949 دکانداروں کے خلاف سرکاری نرخ نامہ آویزاں نہ کرنے پر کارروائی کی گئی۔
روٹی کی سرکاری قیمت پر فروخت یقینی بنانے کے لیے 72,173 مقامات کا معائنہ کیا گیا، جہاں مہنگے داموں کی 4,591 خلاف ورزیاں پکڑی گئیں اور 6 لاکھ 88 ہزار روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے۔
چکن اور بازاروں میں بھی کارروائی
چکن کے گوشت کی مہنگی فروخت پر بھی کارروائی جاری رہی۔ اس مد میں 8 لاکھ 31 ہزار 500 روپے جرمانے عائد کیے گئے، 12 مقدمات درج ہوئے اور 29 افراد گرفتار کیے گئے۔
دوسری جانب پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (PERA) فورس نے مختلف بازاروں میں 93,258 معائنے کیے، 63 لاکھ 21 ہزار 600 روپے جرمانے عائد کیے اور منافع خوری پر آٹھ کاروباری مراکز سیل کر دیے۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر کارروائی جاری
ڈاکٹر کرن خورشید کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر قیمت کنٹرول مجسٹریٹس اور انفورسمنٹ ٹیمیں سرکاری نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ شہریوں کو سرکاری نرخوں پر روٹی، چکن اور دیگر اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانا اولین ترجیح ہے، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی بغیر کسی رعایت کے جاری رہے گی۔
مزید تفصیلات کے لیے پڑھیں: مارکیٹیں رات 9 بجے بند، سرکاری گاڑیوں کا پیٹرول آدھا اور ایل پی جی مہنگی کیوں؟ وزیر نے ایران بارڈر کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
ماخذ: اردو پوائنٹ، اے پی پی