پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں مگر کے پی میں ایمرجنسی کی واپسی پر بات نہیں ہوگی — رانا ثنا اللہ نے محمود اچکزئی کی “غیر جانبدار مقام” کی شرط بھی مسترد کر دی

0
اے آئی سے بنی تصویر — مذاکرات کی علامتی میز کے منظر (اصل شخصیات کی شباہت نہیں)

وزیر اعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی حکومت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج واپس لینے کی شرط پر مذاکرات قبول نہیں کیے جائیں گے۔ اسی بیان میں انہوں نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی اس شرط کو بھی مسترد کر دیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف سے ان کی ملاقات کے لیے کسی “غیر جانبدار مقام” کا انتخاب کیا جائے۔ یہ بیان ہفتے (17 اکتوبر 2026) کو جاری ہوا۔

غیر جانبدار مقام کی شرط کیوں مسترد

رانا ثنا اللہ کے مطابق وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات صرف وزیر اعظم ہاؤس میں ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس کسی کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ ریاستی ادارہ ہے، اور اپوزیشن لیڈر کا کسی دوسرے مقام پر ملاقات پر اصرار “ناقابل قبول” ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی اسی نوعیت کی شرائط رکھی گئی تھیں۔ (یہ موقف حکومت کے بیان کے طور پر دیا گیا ہے۔)

پی ٹی آئی سے مذاکرات کی شرائط (دونوں فریقوں کے دعوے منسوب)

مشیر نے واضح کیا کہ حکومت پی ٹی آئی کے ساتھ ایسے مذاکرات کو تیار ہے جن میں کوئی پیشگی شرط نہ ہو، مگر ایمرجنسی کے خاتمے کو مذاکرات کی شرط بنانے پر حکومت راضی نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق کے پی میں قائم کردہ انتظامی سیٹ اپ کو کام کے لیے مناسب وقت دیا جائے گا۔ دوسری جانب حکومت کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں مذاکرات کے عمل کو صحیح موقع نہیں دیا، جبکہ پارٹی اس الزام کو مسترد کرتی رہی ہے۔

الیکشن کمیشن کی تقرریوں کا معاملہ

رانا ثنا اللہ کے مطابق وزیر اعظم نے چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کے تقرر کے حوالے سے اپوزیشن لیڈر کو دو خطوط لکھے — ایک امریکا روانگی سے پہلے اور دوسرا واپسی کے بعد — اور حکومت اب جواب کا انتظار کر رہی ہے۔ انہوں نے محمود اچکزئی سے مطالبہ کیا کہ وہ وزیر اعظم ہاؤس آنے کی تاریخ بتائیں، “حکومت ان کے استقبال کے لیے تیار ہے”۔

پس منظر

یاد رہے کہ 15 اکتوبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی حمایت میں قراردادیں منظور ہوئیں تھیں، جس کے بعد اپوزیشن اتحاد (تحریک تحفظ آئین پاکستان) نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ذرائع: اردو پوائنٹ (17 اکتوبر 2026)، آج انگلش ٹی وی، اب تک نیوز۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *