کانگو میں ایبولا کیسز 10 ہزار سے تجاوز کر گئے
کانگو میں ایبولا کیسز 10 ہزار سے تجاوز کر گئے ہیں — جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا وبا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 10,060 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اس سے ہلاکتوں کی تعداد 4,887 ہو گئی ہے۔ کانگو کی وزارت صحت عامہ کے منگل 27 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ اعداد کے مطابق یہ ملک کی تاریخ کی تیز ترین اور مہلک ترین ایبولا وبا بن چکی ہے۔
وبا اتنی تیزی سے کیوں پھیلی؟
یہ وبا مئی 2026 میں شروع ہوئی تھی اور یہ ایبولا وائرس کی نایاب قسم بونڈیبوگیو کی وجہ سے پھیلی ہے، جس کے لیے ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں ہے۔ حکام کے مطابق نئے کیسز کا تقریباً 80 فیصد حصہ ان رابطوں کی زنجیروں سے باہر سے آ رہا ہے جن کی صحت حکام نگرانی کر رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ وبا پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے۔
افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کے مطابق وبا کو قابو میں سمجھنے کے لیے کم از کم 95 فیصد کیسز کا متاثرہ افراد کے معلوم رابطوں سے آنا ضروری ہے، جبکہ کانگو میں یہ شرح اس سے بہت کم ہے۔ اس کے علاوہ مسلح تنازع، خراب سڑکیں، اور مقامی آبادی میں بداعتمادی اور غلط معلومات کی وجہ سے صحت کارکنوں پر حملے بھی ہو رہے ہیں، جس سے متاثرہ علاقوں تک پہنچنا اور مریضوں کو علاج کی طرف لانا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
وبا دوسرے ملکوں تک کیسے پہنچی؟
یہ وبا اب تک کسی بھی سابقہ ایبولا وبا کے مقابلے میں افریقہ کے زیادہ علاقوں تک پھیل چکی ہے۔ کانگو کے علاوہ کینیا اور نائیجیریا میں بھی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ یوگنڈا اور فرانس میں بھی کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں، حالانکہ ان دونوں ملکوں میں اس وقت کوئی فعال کیس نہیں ہے۔ مجموعی طور پر یہ وبا پانچ ملکوں تک پہنچ چکی ہے۔
کینیا میں رواں ماہ پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا، جب کانگو سے یوگنڈا کے راستے سفر کرنے والا ایک شخص نیروبی میں ہلاک ہو گیا، جس کے بعد کینیا میں کیسز کی تعداد 9 تک پہنچ گئی۔ نائیجیریا میں گزشتہ ہفتے چوتھے افریقی ملک کے طور پر ایک کیس رپورٹ ہوا — ایک سوئس سفارتکار کی اہلیہ، جنہوں نے کانگو کا سفر نہیں کیا تھا اور جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ یوگنڈا میں وائرس سے متاثر ہوئیں۔ انہیں اور ان کے شوہر کو پیر کو علاج کے لیے سوئٹزرلینڈ منتقل کر دیا گیا۔ یوگنڈا نے مئی اور جون میں 20 کیسز رپورٹ کیے تھے، جن میں زیادہ تر کانگو سے درآمد شدہ تھے، لیکن عالمی ادارہ صحت نے اگست میں یوگنڈا کو ایبولا سے پاک قرار دے دیا تھا۔ یوگنڈا نے اب کانگو سے واپس آنے والے شہریوں کے لیے 21 دن کا قرنطینہ لازمی قرار دیا ہے۔
یہ وبا تاریخ کی دوسری بڑی وبا کیوں ہے؟
کانگو کی موجودہ وبا اب تاریخ کی دوسری سب سے بڑی اور دوسری مہلک ترین ایبولا وبا بن چکی ہے، جس سے آگے صرف 2014 سے 2016 کے دوران مغربی افریقہ کی وبا ہے، جس میں 28,600 سے زیادہ افراد متاثر ہوئے اور 11,000 سے زیادہ ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم کانگو کی وبا نے اپنے اعلان کے بعد سے اسی عرصے میں مغربی افریقہ کی وبا کے مقابلے میں کم از کم تین گنا زیادہ کیسز اور اموات درج کی ہیں، جو اس کی رفتار کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ وبا 2018 سے 2020 کے دوران کانگو میں پھیلنے والی وبا سے بھی آگے نکل چکی ہے، جو اس سے پہلے ملک کی سب سے بڑی وبا تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نگرانی میں کمزوری ایک بار بار سامنے آنے والا مسئلہ ہے، کیونکہ زیادہ تر ابتدائی کیسز کی تصدیق اس وقت ہوئی جب مریضوں میں علامات ظاہر ہونے یا سفر کرنے کے بعد کافی وقت گزر چکا تھا۔
ویکسین اور علاج کی صورتحال کیا ہے؟
چونکہ بونڈیبوگیو قسم کے لیے کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج نہیں ہے، اس لیے عالمی ادارہ صحت نے جمعہ کو اعلان کیا کہ اس قسم کے خلاف ویکسین کا پہلا کلینیکل ٹرائل شروع کر دیا گیا ہے۔ کانگو کے صوبہ اتوری میں صحت کارکنوں کو تجرباتی ویکسین کی خوراکیں دی جا رہی ہیں، جسے اس وبا کے خلاف جنگ میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ویکسین کا ٹرائل فوری حل نہیں ہے، اور اس وقت سب سے بڑا چیلنج متاثرہ افراد کی جلد شناخت، ان کے رابطوں کی نگرانی، اور محفوظ تدفین اور علاج کے طریقوں پر عمل درآمد ہے۔ صحت کارکنوں پر حملوں کے واقعات، جن میں ایک نرس کی ہلاکت بھی شامل ہے، اس کام کو مزید خطرناک بنا رہے ہیں۔
پاکستان اور دنیا کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
اگرچہ یہ وبا اس وقت افریقہ تک محدود ہے، لیکن اس کے پھیلاؤ کی رفتار اور متعدد ملکوں تک پہنچنے نے عالمی صحت حکام کو چوکنا کر دیا ہے۔ بین الاقوامی سفر اور سرحدی نگرانی کے نظام اس وقت خاص توجہ کا مرکز ہیں، خاص طور پر ان ملکوں میں جہاں سے کانگو یا متاثرہ علاقوں سے سفر ہوتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت اور افریقی صحت حکام نے متاثرہ علاقوں سے آنے والے مسافروں کی نگرانی، علامات کی جلد رپورٹنگ، اور صحت کارکنوں کی حفاظت پر زور دیا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں کیسز کی تعداد اور نئے ملکوں میں پھیلاؤ یہ طے کرے گا کہ آیا یہ وبا قابو میں آتی ہے یا تاریخ کی سب سے بڑی وبا بن جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی میں فلو کیسز دگنے ہونے پر ہماری خبر https://niazitvnews.com/?p=2272 اور سندھ میں پولیو کیس پر ہماری خبر https://niazitvnews.com/?p=1342
ذرائع: الجزیرہ، رائٹرز، دی ہندو — 27 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔