کینیڈا: برٹش کولمبیا میں کنزرویٹو کی تاریخی جیت
کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں کنزرویٹو پارٹی نے قبل از وقت صوبائی الیکشن میں واضح اکثریت حاصل کر کے نو سال سے برسراقتدار نیو ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) کی حکومت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ عبوری رہنما لورن ڈورکسن کی قیادت میں کنزرویٹو پارٹی تقریباً ایک صدی بعد صوبے کی پہلی کنزرویٹو حکومت بنانے جا رہی ہے۔ وزیراعظم ڈیوڈ ایبی نے شکست تسلیم کرتے ہوئے این ڈی پی کی قیادت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
نتائج: 62 نشستیں کنزرویٹو کے نام
ابتدائی نتائج کے مطابق 93 رکنی قانون ساز اسمبلی میں کنزرویٹو پارٹی 62 نشستوں پر آگے یا کامیاب رہی، جبکہ این ڈی پی صرف 29 نشستوں تک محدود ہو گئی اور گرین پارٹی نے 2 نشستیں حاصل کیں۔ یہ نتیجہ اس لیے بھی حیران کن ہے کہ مہم کے آغاز سے چند ہفتے قبل ہی کنزرویٹو پارٹی اندرونی قیادت کے بحران سے گزر رہی تھی — اس وقت کی رہنما کیری لن فنڈلے نے صرف چار ماہ بعد استعفیٰ دیا تھا، جس کے بعد ڈورکسن کو عبوری رہنما بنایا گیا تھا۔
ایبی نے 22 ستمبر کو قبل از وقت الیکشن کا اعلان کیا تھا، یہ کہتے ہوئے کہ امریکی تجارتی پالیسیوں سے درپیش “وجودی خطرے” اور اسمبلی میں صرف ایک نشست کی اکثریت کے باعث حکومت مؤثر طریقے سے کام نہیں کر پا رہی۔ ناقدین نے اس فیصلے کو موقع پرستی قرار دیا تھا۔ اب یہی جوا الٹا پڑا ہے — وہ الیکشن جو حکومت کو مضبوط بنانے کے لیے بلایا گیا تھا، اس نے حکومت ہی ختم کر دی۔
ایبی کا استعفیٰ اور اعتراف شکست
ہفتہ 24 اکتوبر کی رات نتائج آنے کے بعد ایبی نے اپنی انتخابی رات کی تقریب میں شکست تسلیم کی اور ڈورکسن کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ برٹش کولمبیا کے وزیراعظم کے طور پر خدمات انجام دینا ان کی زندگی کا اعزاز تھا، اور وہ این ڈی پی کی قیادت سے استعفیٰ دیں گے۔ رپورٹس کے مطابق ایبی اپنی نشست وینکوور پوائنٹ گرے سے رکن اسمبلی کے طور پر برقرار رہنے کی توقع ہے، جبکہ پارٹی نئے رہنما کے انتخاب کا عمل شروع کرے گی۔
ایبی 2013 سے وینکوور پوائنٹ گرے کی نمائندگی کر رہے تھے اور نومبر 2022 میں جان ہورگن کے بعد وزیراعظم بنے تھے۔ ان کی حکومت نے کم از کم اجرت میں اضافہ، امریکی محصولات کا مقابلہ اور نئے عوامی منصوبوں کا آغاز جیسے اقدامات کو اپنی کامیابیاں قرار دیا تھا۔
ڈورکسن کی حکومت کو کن چیلنجز کا سامنا ہوگا؟
نئی حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج صوبے کی مالی صورتحال ہے۔ ستمبر کی مالی رپورٹ کے مطابق برٹش کولمبیا کو مالی سال 2026-27 میں 13.8 ارب ڈالر کے ریکارڈ خسارے کا سامنا ہے۔ ڈورکسن نے مہم میں ٹیکسوں میں کٹوتی اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداوار میں نمایاں توسیع کا وعدہ کیا تھا، جبکہ این ڈی پی کی ایک لاکھ 90 ہزار ڈالر سے زائد آمدنی پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز کو انہوں نے ڈاکٹروں پر حملہ قرار دیا تھا۔
اس کے علاوہ نئی حکومت کو رہائش کے بحران اور منشیات کے بحران سے بھی نمٹنا ہوگا، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تحفظ پسند تجارتی پالیسیوں کے مقابلے میں صوبے کے مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا — وہی خطرہ جس کا حوالہ دے کر ایبی نے الیکشن بلایا تھا۔
یہ نتیجہ کیوں اہم ہے؟
برٹش کولمبیا کینیڈا کا تیسرا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے، اور یہاں کی سیاسی تبدیلی پورے ملک کی سیاست پر اثر ڈالتی ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کی جیت اس بات کی علامت ہے کہ ووٹرز مہنگائی، رہائش اور معیشت جیسے مسائل پر تبدیلی چاہتے ہیں۔ پارٹی کے قواعد کے مطابق ڈورکسن کی عبوری قیادت کے بعد ایک سال کے اندر مستقل رہنما کے انتخاب کی دوڑ بھی متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: برازیل الیکشن راؤنڈ اور اسرائیل مغربی کنارہ کراسنگ بند۔
ذرائع: سنڈے گارڈین لائیو اور این پی آئی کیسکیڈیا ایڈووکیٹ، 25 اکتوبر 2026 کی رپورٹوں کے مطابق۔