آئی ایم ایف کا انتباہ — ایران جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان خطے کی معیشت 2026 میں 1.3 فیصد سکڑ جائے گی
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان پر مشتمل خطے کی مجموعی معاشی پیداوار 2026 میں 1.3 فیصد سکڑ جائے گی۔ یہ پیش گوئی آئی ایم ایف کے ریجنل آؤٹ لک میں شامل ہے، جو جمعرات 22 اکتوبر کو دبئی میں جاری کیا گیا۔
آئی ایم ایف کے مطابق — سکڑاؤ کی وجوہات
رائٹرز کے مطابق آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ جنگ کے اثرات توانائی کی پیداوار، بحری تجارت، سیاحت، تجارت اور اعتماد پر پڑے ہیں۔ تاہم فنڈ کو توقع ہے کہ 2027 میں معیشت 6.6 فیصد کی تیز بحالی دکھائے گی، اگرچہ بیشتر معیشتیں جنگ سے پہلے کے تخمینوں سے نیچے ہی رہیں گی۔
بنیادی مفروضہ — جنگ 2027 کے آغاز میں تھم جائے گی
آئی ایم ایف کے بنیادی منظرنامے میں یہ فرض کیا گیا ہے کہ تنازع 2027 کے اوائل میں تھم جائے گا اور سال کے دوران تجارت بتدریج معمول پر آ جائے گی — لیکن آؤٹ لک اب بھی “غیر معمولی حد تک غیر یقینی” ہے۔
تیل برآمد کنندہ بمقابلہ درآمد کنندہ
فنڈ کے مطابق جنگ کے اثرات غیر یکساں رہے ہیں: توانائی کی پیداوار اور بحری تجارت میں خلل سے تیل برآمد کرنے والی معیشتیں براہِ راست متاثر ہوئیں، جبکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک زیادہ لچکدار ثابت ہوئے — جنہیں ترسیلاتِ زر، سیاحت کی آمدنی، سازگار مالیاتی حالات اور صارفین کے تحفظ کی فوری پالیسیوں کا سہارا ملا۔
سب سے بڑا خطرہ — توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ
آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اہم خطرات توانائی کی پیداوار اور تجارتی راستوں میں مزید خلل سے پیدا ہوتے ہیں، جو توانائی کی قیمتوں کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ بیرونی مالیاتی حالات بھی سخت ہو سکتے ہیں اگر سرمایہ کار اے آئی سے چلنے والی پیداواری صلاحیت کے تخمینوں پر نظرثانی کریں اور افراطِ زر و مالیاتی پوزیشنوں پر بڑھتے خدشات کے درمیان شرح سود مزید بڑھ جائے۔
نوٹ: 1.3 فیصد سکڑاؤ کا یہ اعدادوشمار پورے خطے کا مجموعی تخمینہ ہے، نہ کہ صرف پاکستان کا۔
ذرائع: رائٹرز