آبنائے ہرمز: عمان کے قریب ٹینکر پر نامعلوم پروجیکٹائل حملہ
مسقط — برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے اطلاع دی ہے کہ آبنائے ہرمز سے باہر نکلتے ہوئے ایک تیل بردار ٹینکر پر نامعلوم پروجیکٹائل سے حملہ ہوا ہے۔ یہ واقعہ عمان کے شہر لیمہ سے تقریباً 7 ناٹیکل میل شمال مشرق میں پیش آیا۔
یو کے ایم ٹی او کی وارننگ 181-26 کے مطابق یہ واقعہ 22 اکتوبر کو شام 5:15 بجے (یو ٹی سی) پیش آیا، جس کی اطلاع تاخیر سے موصول ہوئی۔ ایجنسی کے مطابق ٹینکر اپنے اگلے بندرگاہ کی طرف سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔ وارننگ میں جہاز کا نام یا پروجیکٹائل کے ماخذ کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
یو کے ایم ٹی او نے علاقے سے گزرنے والے جہازوں کو احتیاط سے سفر کرنے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے۔ حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ایران کا الگ دعویٰ
اسی دوران ایران کی انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعے کے روز آبنائے ہرمز کے جنوب میں “غیر مجاز” راستے پر سفر کرنے والے دو سپر ٹینکرز بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکوں کا شکار ہوئے، جس سے ان کے انجن رومز میں آگ بھڑک اٹھی اور عملے کو جہاز چھوڑنا پڑا۔ آئی آر جی سی کے سرکاری نیوز آؤٹ لیٹ سپاہ نیوز کے مطابق دونوں ٹینکرز میں مجموعی طور پر 45 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل لدا تھا۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے آئی آر جی سی کے ایک ذریعے کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا کہ “خلاف ورزی کرنے والے” جہازوں کی آمدورفت مکمل طور پر روک دی گئی ہے۔ یہ ایرانی دعوے ہیں جن کی آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے۔
ایک علیحدہ واقعے میں یو کے ایم ٹی او نے یہ بھی بتایا تھا کہ 20-21 اکتوبر کی درمیانی شب عمان کے بخا کے مغرب میں ایک اور ٹینکر میں آگ لگی تھی، جسے بجھا کر جہاز کو لنگر انداز کر دیا گیا تھا — تمام عملہ محفوظ رہا تھا۔
تیل کی قیمتوں پر دباؤ
آبنائے ہرمز دنیا کا اہم ترین تیل کا راستہ ہے — امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2025 میں اوسطاً روزانہ 2 کروڑ 12 لاکھ بیرل خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات اس راستے سے گزریں، جن میں سے 89 فیصد ایشیائی منڈیوں کو جاتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں پہلے ہی 111 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہیں — تفصیل یہاں۔
علاقائی وزرائے خارجہ کے R4 اجلاس میں بھی آبنائے ہرمز سے محفوظ تجارتی گزرگاہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا — R4 اعلامیے کی تفصیل یہاں۔
ماخذ: یو کے ایم ٹی او وارننگ 181-26، انڈین ایکسپریس، اکون ٹائمز، گلف نیوز، شفق نیوز، سپاہ نیوز (ایرانی دعویٰ)۔