ارجنٹینا: صدر میلے کے خلاف کرپٹو اسکینڈل کی تحقیقات خارج

0

ارجنٹائن کے ایک وفاقی جج نے صدر خاویر میلے اور ان کی بہن کرینہ میلے کے خلاف کرپٹو کرنسی اسکینڈل کی فوجداری تحقیقات خارج کر دی ہیں۔ جج مارسیلو مارٹینز ڈی جورجی نے جمعے کو عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ فیصلہ سنایا، جس سے $Libra نامی میم کوائن کے ڈوبنے پر میلے کے کردار کی تحقیقات کا خاتمہ ہو گیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پراسیکیوٹر ایڈورڈو تائیانو نے بھی تحقیقات خارج کرنے کی درخواست کی تھی۔

فیصلے میں کیا کہا گیا؟

جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ “رپورٹ شدہ واقعات فوجداری جرم نہیں بنتے” اور سرمایہ کاروں کے نقصانات اور کرنسی کی قیمت میں اتار چڑھاؤ فراڈ ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ صدر کی حیثیت سے میلے کی پوسٹ نے کوائن کے اجراء کو “زیادہ اثر” ضرور دیا ہوگا، لیکن یہ بات بذاتِ خود کسی دھوکہ دہی کی اسکیم کے مترادف نہیں۔

یاد رہے کہ میلے نے فروری 2025 میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر $Libra نامی کم معروف کرپٹو کوائن کی سفارش کی تھی، جس کے بعد اس کی قیمت میں عارضی تیزی آئی۔ بعد ازاں انہوں نے پوسٹ ڈیلیٹ کر دی اور کرنسی سے کسی تعلق کی تردید کی، جبکہ کوائن کی قیمت دھڑام سے گر گئی۔ اس وقت میلے کا کہنا تھا کہ انہوں نے “نیک نیتی” سے کام کیا تھا اور سیاسی حریف صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

99 ملین ڈالر کہاں گئے؟

بلاک چین محققین کے مطابق کوائن کے خالق سے منسلک آٹھ ڈیجیٹل والٹس نے کوائن کی مارکیٹ سے تقریباً 99 ملین ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی نکال لی تھی۔ ارجنٹائن کی فن ٹیک چیمبر نے اس وقت خبردار کیا تھا کہ یہ “رگ پُل” ہو سکتا ہے — ایسا حربہ جس میں ڈویلپرز پہلے سرمایہ کاری کھینچتے ہیں اور بعد میں اپنا حصہ بیچ کر نکل جاتے ہیں۔

ہیڈن ڈیوس کی تحقیقات بھی خارج

جج نے امریکی تاجر ہیڈن ڈیوس کے خلاف تحقیقات بھی خارج کر دیں، جنہوں نے خود کو اس ٹوکن کا “لانچ ایڈوائزر” قرار دیا تھا۔ ڈیوس نے تسلیم کیا ہے کہ کریش کے بعد ان کے پاس تقریباً 100 ملین ڈالر موجود تھے، تاہم وہ کسی غلط کام کی تردید کرتے ہیں۔

صدارتی دفتر کا ردعمل اور ٹرمپ سے دوستی

ارجنٹائن کے صدارتی دفتر نے ایکس پر پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ “تاریخ میں پہلی بار کسی صدرِ مملکت کی مکمل آزادی سے تحقیقات ہوئیں، جن سے ان کی بے گناہی کا مکمل ثبوت ملا”۔ دفتر نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ “ناکام ادارہ جاتی بغاوت” کی کوشش میں ٹیکس دہندگان کا پیسہ اور صدر کا وقت ضائع کرنے کی ذمہ داری کون لے گا۔

واضح رہے کہ میلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں — ٹرمپ انہیں اپنا “پسندیدہ صدر” قرار دے چکے ہیں۔ کرپٹو مارکیٹ میں اس نوعیت کے اسکینڈلز سرمایہ کاروں کے لیے بڑا خطرہ ہیں، جیسے بٹ کوائن کی قیمت میں حالیہ اتار چڑھاؤ نے ایک بار پھر ثابت کیا۔

ذرائع: رائٹرز، الجزیرہ — وفاقی جج مارسیلو مارٹینز ڈی جورجی کا 23 اکتوبر 2026 کا فیصلہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *