اسرائیل انتخابات: تاریخی ٹرن آؤٹ، نتائج 4 نومبر کو

0

اسرائیل میں منگل کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات کے دوران تاریخی ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا ہے، جسے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل پر ریفرنڈم قرار دیا جا رہا ہے۔ ابتدائی اعداد کے مطابق دوپہر تک ووٹنگ کی شرح کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ رہی، اور شام تک مجموعی ٹرن آؤٹ 44.9 فیصد تک پہنچ گیا۔ پولنگ مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے ختم ہوگی، جس کے بعد ٹی وی چینلز ایگزٹ پول جاری کریں گے، جبکہ حتمی نتائج 4 نومبر کو جاری کیے جائیں گے۔

ٹرن آؤٹ کیوں تاریخی ہے؟

اسرائیلی الیکشن کمیٹی کے مطابق دوپہر 12 بج کر 49 منٹ تک 31.5 فیصد ووٹرز اپنا ووٹ ڈال چکے تھے، جن کی تعداد 23 لاکھ سے زیادہ تھی۔ صبح 10 بجے تک ٹرن آؤٹ 16.68 فیصد تھا، جو 1981 کے بعد سب سے زیادہ ابتدائی ٹرن آؤٹ ہے۔ فوجی اہلکاروں میں بھی شرکت نمایاں رہی، جہاں دوپہر تک 48 فیصد سے زیادہ فوجی ووٹ ڈال چکے تھے، جبکہ 2022 میں اسی وقت یہ شرح 44.4 فیصد تھی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اتنی زیادہ شرکت اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیلی عوام اس انتخاب کو غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں، کیونکہ یہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں، غزہ جنگ اور ایران کے ساتھ جنگ کے بعد پہلا پارلیمانی انتخاب ہے۔

نیتن یاہو بمقابلہ ایزن کوٹ

اس انتخاب میں وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو، جو اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک رہنے والے وزیراعظم ہیں، ایک اور مدت کے لیے میدان میں ہیں۔ ان کے مرکزی حریف سابق فوجی سربراہ گاڈی ایزن کوٹ ہیں، جبکہ سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ یائر لاپڈ کے ساتھ ایک الگ اپوزیشن اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں۔

آخری ٹی وی پولز کے مطابق نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحادیوں کو تقریباً 50 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ ایزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن کو 52 سے 56 نشستیں مل سکتی ہیں۔ دونوں بلاک 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کم ہیں، اس لیے انتخاب کے بعد اتحادی حکومت کی تشکیل ایک بڑا چیلنج ہوگی۔

نیتن یاہو نے دائیں بازو کے ووٹرز سے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ کم شرکت سے ان کے مخالفین حکومت بنا سکتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیلی رہنما کی کھلے عام حمایت کی ہے۔

نتائج کا شیڈول کیا ہے؟

پولنگ ختم ہونے کے بعد رات 10 بجے چینلز 11، 12 اور 13 ایگزٹ پول جاری کریں گے، لیکن یہ حتمی نتائج نہیں ہوں گے۔ مرکزی الیکشن کمیٹی رات تقریباً ایک بجے سے گنتی کے نتائج جاری کرنا شروع کرے گی، اور بدھ کی صبح تک تقریباً 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کی توقع ہے۔ فوجیوں، سفارت کاروں، اسپتالوں اور قیدیوں کے ڈبل لفافے والے ووٹ 29 اکتوبر کو گنے جائیں گے، اور 4 نومبر کو سرکاری نتائج جاری ہوں گے، جس کے بعد صدر حکومت سازی کے لیے کسی ایک رہنما کو مینڈیٹ دیں گے۔

بے ضابطگیوں کے الزامات

انتخابات کے دوران کئی جماعتوں نے بے ضابطگیوں کے الزامات بھی لگائے ہیں، جن میں گمشدہ یا خراب شدہ بیلٹ پیپرز شامل ہیں۔ تاہم مرکزی الیکشن کمیٹی نے کہا ہے کہ منظم دھاندلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور انفرادی شکایات کو حل کیا جا رہا ہے۔ عرب شہری، جو آبادی کا تقریباً 21 فیصد ہیں، اس انتخاب میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کی شرکت ہی کسی بلاک کو 61 نشستوں تک پہنچا سکتی ہے۔

اسرائیل کے اس انتخاب پر دنیا بھر کی نظریں ہیں، کیونکہ اس کا نتیجہ مشرق وسطیٰ کی سیاست، ایران کے ساتھ کشیدگی اور غزہ کی صورتحال پر براہ راست اثر ڈالے گا۔

مزید تفصیل کے لیے یہ بھی پڑھیں: اسرائیل انتخابات: نیتن یاہو کا ایران جنگ کا اشارہ (https://niazitvnews.com/?p=2160) اور Israel Votes Today in Tight Election Test for Netanyahu (https://niazitvnews.com/?p=2109)۔

ماخذ: اے بی پی لائیو، دی پیٹیک اور کورسیو میڈیا کی 27 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *