اسرائیل انتخابات: لیکوڈ سب سے بڑی جماعت، اکثریت کسی کو نہیں

0

اسرائیل کے عام انتخابات میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، مگر نہ نیتن یاہو کے بلاک کو اور نہ ہی ان کے حریف گاڈی ایزن کوٹ کے بلاک کو 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل ہو سکی ہے۔ نظرثانی شدہ ایگزٹ پولز میں دونوں بلاک 51، 51 نشستوں پر برابر نظر آئے، جبکہ عرب جماعتوں کو تقریباً 18 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ حتمی سرکاری نتائج اس ہفتے کے آخر تک آنے کی توقع ہے، اس لیے یہ نتیجہ ابھی ابتدائی اور غیر حتمی ہے۔

لیکوڈ آگے، مگر اکثریت سے دور

ابتدائی سرکاری گنتی میں بھی لیکوڈ آگے رہی۔ مرکزی الیکشن کمیٹی کی جانب سے 30 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد لیکوڈ کو 24 فیصد سے زائد ووٹ ملے، جبکہ سابق آرمی چیف گاڈی ایزن کوٹ کی جماعت یشار 16 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ کا اتحاد ٹوگیدر 8.8 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ ایگزٹ پولز کے مطابق لیکوڈ کو تقریباً 27 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ یشار کو 21 سے 23 نشستیں مل سکتی ہیں۔ تاہم گنتی کا یہ مرحلہ نشستوں کی حتمی تقسیم طے نہیں کرتا، اور ڈبل لفافے والے ووٹوں اور بیرون ملک مقیم اسرائیلیوں کے ووٹوں کی گنتی کے بعد صورتحال بدل سکتی ہے۔

نیتن یاہو کا دعویٰ، ایزن کوٹ کا عزم

انتخابی رات کو یروشلم میں لیکوڈ ہیڈکوارٹرز میں خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ دائیں بازو کے بلاک کو اکثریت کی مضبوط حمایت حاصل ہے اور ایک مضبوط دائیں بازو کی قومی حکومت بننی چاہیے۔ انہوں نے عرب جماعتوں پر انحصار کرنے والی حکومت کو مسترد کیا۔ دوسری جانب ایزن کوٹ نے تل ابیب میں اپنے حامیوں سے خطاب میں نئی حکومت بنانے کا عزم ظاہر کیا، تاہم عرب جماعتوں کے ساتھ شراکت ان کے اپنے اتحادیوں میں بھی اختلاف کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا کہ ان کی حمایت نے نیتن یاہو کے حق میں صورتحال بدل دی۔

ٹرن آؤٹ 1999 کے بعد سب سے زیادہ

اس انتخاب میں ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا، جو 1999 کے بعد کسی بھی اسرائیلی قومی انتخاب میں سب سے زیادہ شرکت ہے۔ 73 لاکھ سے زائد افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے، اور دسیوں ہزار اسرائیلی ووٹ ڈالنے کے لیے بیرون ملک سے وطن واپس آئے۔ یہ انتخاب بڑی حد تک نیتن یاہو کے طویل دور حکومت پر ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، اور ایگزٹ پولز کے مطابق ان کے مذہبی قوم پرست اتحاد کی حمایت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

اگر کوئی بلاک 61 نشستیں حاصل نہ کر سکا تو حکومت سازی کے لیے ہفتوں کی کھینچا تانی ہو سکتی ہے، اور نئے انتخابات کا امکان بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ عرب جماعتیں اس صورتحال میں کنگ میکر کا کردار ادا کر سکتی ہیں، مگر دونوں بڑے بلاکس کے رہنما ان کے ساتھ حکومت بنانے سے ہچکچا رہے ہیں۔ اس لیے اسرائیل کی سیاسی صورتحال آنے والے دنوں میں مزید غیر یقینی رہنے کا امکان ہے۔

اس سے قبل اسرائیل انتخابات کے ایگزٹ پولز پر ہماری خبر https://niazitvnews.com/?p=2280 اور تاریخی ٹرن آؤٹ پر https://niazitvnews.com/?p=2235 بھی پڑھیں۔

ماخذ: ٹی آر ٹی ورلڈ، این ڈی ٹی وی، ٹریبیون انڈیا، نیوز 18 — 28 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *