اسرائیل انتخابات: نیتن یاہو بلاک 54، اکثریت سے دور
اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی بلاک کو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت ملتی نظر نہیں آ رہی۔ مرکزی الیکشن کمیٹی کے تازہ اعداد کے مطابق 77.6 فیصد ووٹ گنے جانے کے بعد وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا دائیں بازو کا بلاک 54 نشستوں پر برقرار ہے، جب کہ سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزن کوٹ کی قیادت والا بلاک 49 نشستوں تک پہنچ گیا ہے۔ عرب جماعتوں کی مشترکہ نشستیں 17 رہ گئی ہیں۔ یہ نتائج جزوی ہیں اور گنتی مکمل ہونے تک تبدیل ہو سکتے ہیں۔
تازہ گنتی میں کیا بدلا
اس سے پہلے 76.8 فیصد بیلٹ باکس گنے جانے پر نیتن یاہو بلاک 54، آئزن کوٹ بلاک 47 اور عرب جماعتیں 19 نشستوں پر تھیں۔ تازہ اپ ڈیٹ میں یاشر پارٹی کو دو نشستوں کا فائدہ ہوا جو جوائنٹ لسٹ سے منتقل ہوئیں، جس سے آئزن کوٹ بلاک 47 سے بڑھ کر 49 ہو گیا اور عرب جماعتوں کی تعداد 19 سے گھٹ کر 17 رہ گئی۔ یسرائیل بیٹینو کی ایک نشست بھی سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی بیا چاد پارٹی کو منتقل ہوئی۔ نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت برقرار ہے، اس کے بعد آئزن کوٹ کی یاشر پارٹی 22 نشستوں پر ہے، جب کہ بینیٹ کی پارٹی 12 نشستوں پر ہے۔
ایگزٹ پولز سے مختلف تصویر
انتخابات کے روز نشر ہونے والے ایگزٹ پولز میں دونوں بڑے بلاکس کو 51، 51 نشستیں ملتی دکھائی گئی تھیں، جب کہ لیکوڈ کو سب سے بڑی جماعت قرار دیا گیا تھا۔ جزوی سرکاری نتائج میں نیتن یاہو بلاک کی برتری ایگزٹ پولز سے زیادہ نظر آ رہی ہے، لیکن پھر بھی وہ اکثریت سے 7 نشستیں دور ہے۔ اسرائیل میں ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا جو 1999 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ حتمی گنتی 30 اکتوبر تک متوقع ہے اور سرکاری نتائج 4 نومبر کو جاری ہوں گے۔ انتخابات کے ابتدائی نتائج اور ایگزٹ پولز کی تفصیل ہماری اس رپورٹ میں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2377
ڈبل لفافے والے ووٹ فیصلہ کن ہو سکتے ہیں
پانچ لاکھ سے زیادہ ڈبل لفافے والے ووٹ ابھی گنے جانے باقی ہیں، جن میں فوجیوں، قیدیوں، طبی عملے اور بیرون ملک تعینات اسرائیلی نمائندوں کے ووٹ شامل ہیں۔ الیکشن حکام کے مطابق زیادہ ٹرن آؤٹ کے باعث غیر حاضر ووٹوں کی تعداد ابتدائی اندازے سے زیادہ ہو سکتی ہے، جس سے گنتی میں تاخیر بھی ممکن ہے۔ اسی لیے چھوٹی جماعتوں کی نشستوں میں رد و بدل کا امکان برقرار ہے، خاص طور پر وہ جماعتیں جو 3.25 فیصد کی حد کے قریب ہیں۔
حکومت سازی کا آگے کا راستہ
اسرائیلی قانون کے مطابق نتائج شائع ہونے کے سات روز کے اندر صدر اسحاق ہرزوگ کسی ایک کنیسٹ رکن کو حکومت بنانے کی ذمہ داری دیں گے، اور اسے ضروری نہیں کہ وہ سب سے بڑی جماعت کا رہنما ہو۔ نامزد رکن کے پاس 120 رکنی کنیسٹ میں کم از کم 61 نشستوں کا اتحاد بنانے کے لیے 42 روز ہوں گے۔ اگر تمام کوششیں ناکام رہیں تو اسرائیل کو دوبارہ انتخابات کی طرف جانا پڑ سکتا ہے، اس لیے اتحادی مذاکرات کئی ہفتے جاری رہ سکتے ہیں۔ اسرائیل انتخابات کے پس منظر اور امیدواروں پر ہماری یہ رپورٹ بھی پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2280
ذرائع: ٹائمز آف اسرائیل، وائی نیٹ نیوز، الجزیرہ — اسرائیل مرکزی الیکشن کمیٹی کے جزوی نتائج کے حوالے سے۔