اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت نے خالد خورشید کے جسمانی ریمانڈ کی پولیس کی استدعا مسترد کر دی — جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی پولیس کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ عدالت نے ہفتے کو ہونے والی سماعت میں پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر غور کے بعد اسے خارج کر دیا اور ملزم کو عدالتی تحویل میں بھیجنے کا حکم جاری کیا۔
عدالت میں کیا ہوا؟
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے خالد خورشید کے خلاف مقدمے کی سماعت کی۔ اسلام آباد پولیس نے سابق وزیراعلیٰ کو عدالت میں پیش کیا اور تفتیش کے لیے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا۔ عدالت نے درخواست مسترد کر دی اور خالد خورشید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جوڈیشل ریمانڈ 14 روز کا ہے۔
مقدمہ کس بات کا ہے؟
تھانہ آبپارہ اسلام آباد میں خالد خورشید کے خلاف یہ مقدمہ پاکستان تحریک انصاف کے 26 نومبر 2024 کے احتجاج کے سلسلے میں درج ہے۔ اس احتجاج میں 10 ہزار سے زائد پی ٹی آئی کارکن عوامی اجتماعات پر پابندی اور لاک ڈاؤن کے باوجود اسلام آباد پہنچے تھے، جہاں تقریباً 20 ہزار سکیورٹی اہلکاروں سے ان کی جھڑپیں ہوئیں۔ ریڈ زون میں ایک دن کی جھڑپوں کے بعد پی ٹی آئی قیادت اچانک پیچھے ہٹ گئی اور پارٹی نے “فی الحال” احتجاجی دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد کئی پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت مقدمات درج ہوئے۔
خالد خورشید کون ہیں اور گرفتاری کیسے ہوئی؟
خالد خورشید پی ٹی آئی کے گلگت بلتستان چیپٹر کے صدر اور 2020 سے 2023 تک گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ رہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق انہیں 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں مرکز کی جانب سے ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہونے کے فوراً بعد پشاور میں اسپیکر ہاؤس سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور دیگر افراد سمیت حراست میں لیا گیا۔ ان کے بیٹے حنیف اللہ نے پشاور ہائی کورٹ میں اپنے والد کی بازیابی اور اسپیکر ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے کی درخواست دائر کی تھی، جس میں کے پی آئی جی پی اور کیپیٹل سٹی پولیس افسر سمیت متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا۔
ماضی کے مقدمات:
دسمبر 2024 میں گلگت بلتستان کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے خالد خورشید کو سکیورٹی اداروں کو دھمکیاں دینے کے الزام میں 34 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ الزامات 26 مئی 2024 کو پی ٹی آئی کے ایک جلسے کے دوران عائد کیے گئے تھے۔ جولائی 2023 میں گلگت بلتستان چیف کورٹ نے جعلی ڈگری جمع کرانے پر انہیں نااہل قرار دے دیا تھا — یہ ڈگری مبینہ طور پر یونیورسٹی آف لندن کی تھی جسے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے باقاعدہ انکوائری کے بعد جعلی قرار دیا۔
پی ٹی آئی کارکنوں کو بھی ریلیف:
اسی سماعت کے دوران عدالت نے پارٹی کے حالیہ لانگ مارچ سے منسلک دو مقدمات میں گرفتار پی ٹی آئی کارکنوں کو بھی بری کر دیا۔ تفتیشی افسر کی شناختی پریڈ کے لیے ملتوی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت نے ان کارکنوں کو رہا کرنے کا حکم دیا۔ (ذرائع: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، اے آر وائی نیوز، بزنس ریکارڈر، پاکستان ٹوڈے)